مرزا غلام قادر احمد — Page 176
176 رکھنے کے لئے کام کی سہولت کی غرض سے ربوہ کو سات بلاکس میں تقسیم کیا تھا اور ہر بلاک کا ایک نگران مقرر کیا تھا۔اس طرح واقفین سے ڈائریکٹ رابطہ کی سہولت پیدا ہوگئی۔مرزا غلام قادر صاحب کا تاریخی خطاب: مورخہ 11 مارچ 1998ء کو دارالرحمت وسطی کی بیت الذکر میں محترم مرزا غلام قادر صاحب نے لینگو ایج انسٹی ٹیوٹ ربوہ کے افتتاح کے موقع پر بطور سیکریٹری وقف کو ربوہ جو تاریخی خطاب فرمایا۔اسے خود قادر صاحب ہی کے الفاظ میں من وعن ہدیہ قارئین کیا جاتا ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 1987ء میں تحریک وقفِ کو کا اعلان فرمایا تھا۔اس تحریک کے ذریعہ والدین سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ قبل از پیدائش اپنے ہونے والے بچوں کو وقف کے لئے پیش کریں۔ابتدا میں حضور نے اس تحریک کے لئے 5000 بچوں کا ٹارگٹ مقرر فرمایا۔آج تقریباً 11 سال کے عرصہ کے بعد اس تحریک میں (16000) سولہ ہزار سے زائد بچوں کے نام پیش ہوچکے ہیں جو کہ دنیا کے 61 ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ان تمام ممالک میں سب سے زیادہ تعداد میں واقفین کو کا تعلق پاکستان سے ہے جن کی تعداد تقریباً (12000) بارہ ہزار ہے جب کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ربوہ وہ جماعت ہے جہاں سب سے زیادہ تعداد میں واقفین کو مقیم ہیں۔جن کی تعداد تقریبا (3500) پینتیس سو کے لگ بھگ ہے۔یہ بچے احمدیت کی نئی صدی میں تبلیغ دین کے لئے ہراول دستے کی حیثیت رکھتے ہیں۔لازماً ان کا رابطہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی اقوام سے ہونا ہے