مرزا غلام قادر احمد — Page 161
161 یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔لیکن جس قدر بھی آپ نے یہ سافٹ ویئر بنا کر دیا۔ہم ابھی تک اُسی پر کام کر رہے ہیں۔الحمد للہ آپ نے وصیت سے متعلق تمام فائلوں کا ڈیٹا کمپیوٹر میں انٹر کر دیا تھا سوائے ان کے جو فائلیں اس وقت دستیاب نہ تھیں۔البتہ فوت شدگان کی ڈیٹا انٹری کا کام پچاس فیصد ہوا تھا۔آپ کی ایک بہت بڑی خوبی یہ بھی تھی کہ کسی بھی شعبہ کا سافٹ ویئر بنا کر دیتے تو وہاں نئے لوگ رکھنے کے بجائے پہلے سے موجود کارکنان کو خود ٹریننگ دے کر اس قابل بنا دیتے تھے کہ وہ کام سنبھال سکیں۔دفتر وصیت کے جن کارکنان کو اُنہوں نے ٹریننگ دی ان میں سوائے مکرم نعمت اللہ صاحب شمس کے کہ جن کی Qualification بی اے ہے۔باقی تمام کی تعلیمی قابلیت میٹرک تھی۔اور اب بھی سبھی کارکنان ما شاء اللہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔1993 ء تک آپ اس پراجیکٹ سے متعلق پیپر ورک یا پروگرامنگ کرتے رہے۔اگر کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو آکر پوچھ لیتے تھے عموماً فائلوں کی Study ہی سے عمیق گہرائی تک پہنچ جاتے تھے۔اب ہر موصی کا ریکارڈ فوراً سامنے آجاتا ہے اور فائلیں نہیں کھنگالنی پڑتیں بلکہ اب اگر کوئی فون بیرون از ربوہ سے بھی آئے تو ہم اُسے چند منٹ میں متعلقہ معلومات فراہم کر دیتے ہیں محترم قادر صاحب کی شہادت سے چھ سات ماہ قبل وصیت کا کام دوشعبوں میں منقسم ہو گیا تھا۔اب بیرون از پاکستان کے موصیان وکالت مال ثانی تحریک جدید انجمن احمدیہ کے ماتحت ہیں جب کہ پاکستان میں رہنے والے موصیان شعبہ مجلس کار پرداز صدر انجمن احمدیہ کے ماتحت ہیں دونوں کے پاس اپنے اپنے کمپیوٹرسیکشن ہیں۔“