مرزا غلام قادر احمد — Page 142
142 کلاس میں اُن میں سے کسی کو سیٹ نہیں مل سکی الہذا میں اکیلا ہی تھا۔عورتوں میں سے آصفہ میرے ساتھ تھیں لیکن جب حفاظت کا مضمون پیش نظر ہو تو ایسی صورت میں عورت کا ساتھ شمار نہیں کیا جاتا لہذا فی الحقیقت میں اکیلا ہی تھا۔اللہ تم سے میرا پیار ہمیشہ بڑھاتا رہے اور اپنی دائی محبت تمہیں نصیب فرمائے اور راضیۂ مرضیہ بندوں میں داخل فرمائے۔والسلام خاکسار مرزا طاہر احمد حضور ایدہ الودود کی ساری دُعائیں مقبول ہوئیں قادر نے اپنا عہد قابل رشک انداز میں نبھایا اپنی پوری جان اس وقف میں جھونک دی اپنا دستورِ حیات اس طرح مرتب کیا جس میں اپنی ذات کے لئے کچھ نہیں تھا ہر فعل سے رضائے باری تعالیٰ مقصودِ نظر رکھی۔وہ عمر جو جواں سرشاری کی نذر ہو جاتی ہے سجدوں میں آہ و زاری میں گزاری۔عبادت کا شغف راہ چلتے نہیں ملتا۔دل کے اندر خالق حقیقی کی خالص محبت سے نمو پاتا ہے جن احباب کو اُن کی نماز کا پگھلا ہوا انداز دیکھنے کا موقع ملا وہ گواہ ہیں کہ اُن کا عالم کچھ اور ہی تھا۔گھر سے بیت تک کا فاصلہ اُن کے قدموں سے مانوس رہتا۔وہ قدم جب بھی اُٹھتے دین کے لئے اُٹھتے شب و روز کاموں کی مصروفیات کا لمحہ لمحہ خدمت دین میں گندھا ہوا ہوتا۔آپ کو یہ احساس بھی تھا کہ دینی تعلیم میں کمی ہے۔اس کے لئے قرآن پاک، حدیث شریف اور عربی گرامر کی کلاسز لیتے رہے۔ایم ٹی اے پر