غلام فاطمہ بیگم صاحبہؓ، میمونہ بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 17 of 23

غلام فاطمہ بیگم صاحبہؓ، میمونہ بیگم صاحبہؓ — Page 17

غلام فاطمه بیگم ، میمونہ بیگم 17 آئندہ نسلوں میں بھی محبت کرنے کا شوق پیدا کیا۔اپنے بچوں کی تربیت کا خاص خیال رکھتیں اور ایمان افروز واقعات سناتی رہتیں۔بیگم خان عبدالقیوم خان کے زیر انتظام مہاجرین کی آباد کاری کی عاملہ کی ممبر تھیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ان کی خدمات کو سراہا تھا۔احمدیت کے لئے حد درجہ غیرت رکھتیں۔بے حد سادہ اور قناعت پسند تھیں 1/3 حصہ کی موصیبہ تھیں۔خدا نے خادم دین اولاد سے نوازا۔خدا تعالی کے فضل و احسان سے غلام فاطمہ صاحبہ اور ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب کا جماعت کے چندوں کے لئے ہاتھ بہت کھلا تھا۔مگر ذکر کرنا پسند نہ فرماتے تھے۔وہ اس باپ کی بیٹی تھیں جس نے اپنے جائیداد کے حصے کی مسجد اور ساتھ والی عمارتیں صدر انجمن احمدیہ کو تحفہ کے طور پر دے دی تھیں۔ڈاکٹر صاحب کو یقین تھا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے جماعت ہی کی برکت سے ملا ہے اس لئے جماعت کی امانت ہے اس طرح مالی قربانی کی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تحریکات کے علاوہ بھی ان کے پاس کئی احمدی و غیر احمدی خواتین مستقل آتیں اور وہ خاموشی سے اُن کی مدد کرتیں۔1971ء میں ڈاکٹر عبدالرحمن کا مٹی صاحب کا انتقال ہو گیا اُس وقت فاطمہ بیگم صاحبہ کی صحت زیادہ خراب نہ تھی پھر ایسی کیفیت ہو گئی کہ