غلام فاطمہ بیگم صاحبہؓ، میمونہ بیگم صاحبہؓ — Page 4
غلام فاطمه بیگم ، میمونہ بیگم 4 تھیں۔دراصل غلام فاطمہ کے ننھیال میں بھی قرآن پاک پڑھنے پڑھانے کا مبارک سلسلہ چلتا رہتا۔آپ کے خاندان میں بعض خواتین تو حافظہ قرآن بھی تھیں۔غلام فاطمہ نے اپنے بچوں کے علاوہ بے شمار بچوں، بچیوں کو قرآن کریم پڑھایا۔میمونہ بیگم صاحبہ کے شوہر کو جب کبھی کسی مضمون وغیرہ کے سلسلہ میں کوئی حوالہ دینا ہوتا اور کسی آیت کریمہ کی ضرورت پڑتی تو میمونہ بیگم سے پوچھ لیتے ، آپ فورا بتادیتی کہ یہ آیت فلاں سپارہ میں ہے۔مولوی محمد فیض الدین صاحب کا خیال تھا کہ اپنی لڑکیوں کو کسی احمدی خاندان میں بیا ہیں خصوصاً اگر قادیان میں رشتے ہو جا ئیں تو بہت ہی بہتر کیونکہ آپ کو قادیان سے بے حد محبت تھی۔اُن کی خواہش تھی کہ سیالکوٹ کی ملی قادیان کی مٹی سے مل جائے۔آپ نے ایک دوست کو لکھا کہ دولڑکیوں کے مناسب رشتے تلاش کر کے اطلاع کر دیں۔چنانچہ انہوں نے دو نیک لڑکوں کے حالات لکھ کر آپ کو بھجوادئے۔مولوی محمد فیض الدین صاحب نے اپنے ایک اور دوست محترم ملک حسن محمد سے درخواست کی کہ خود قادیان جا کر ان رشتوں کی تصدیق