غلام فاطمہ بیگم صاحبہؓ، میمونہ بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 2 of 23

غلام فاطمہ بیگم صاحبہؓ، میمونہ بیگم صاحبہؓ — Page 2

غلام فاطمه بیگم ، میمونہ بیگم 2 سے منع کریں۔لیکن زیادہ تر وہ خوش نصیب لوگ تھے جو آپ علیہ السلام کی محبت میں آئے تھے اور آپ علیہ السلام کی بیعت کرنا چاہتے تھے۔اب اتنے سارے لوگوں کی بیعت ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تو نہیں ہوسکتی تھی۔اس لئے یہ طریق اختیار کیا گیا کہ بارہ پگڑیاں مختلف سمتوں میں پھیلا دی گئیں۔لوگوں نے انہی پگڑیوں کو پکڑ کر بیعت کی۔ان بیعت کرنے والوں میں ایک بزرگ مولوی محمد فیض الدین صاحب بھی تھے۔آج ہم جن دوصحابیات کے بارے میں آپ کو بتا رہے ہیں وہ دونوں بہنیں مولوی محمد فیض الدین صاحب کی ہی بیٹیاں ہیں۔یہ خدا کا فضل ہے کہ وہ نیک فطرت اور سچائی کو قبول کرنے والے لوگوں کو سیدھی راہ دکھاتا ہے۔مولوی محمد فیض الدین صاحب بھی ایک نیک فطرت حافظ قرآن تھے۔آپ کے والد غلام مرتضی صاحب بہت نمازی اور پر ہیز گار تھے اور اپنی نیکی کی وجہ سے لوگوں میں اللہ لوگ“ کے نام سے مشہور تھے۔آپ نے 1904 ء میں بیعت کی۔ساتھ ہی آپ کی دونوں صاحبزادیاں محترمہ میمونہ بیگم اور محترمہ غلام فاطمہ بیگم اور آپ کی بیوی مریم بی بی صاحبہ بھی احمدی ہو گئیں اور صحابیات میں شامل ہونے کا شرف پایا۔مولوی فیض الدین صاحب کے کوئی بیٹا نہ تھا۔دو بیٹیاں میمونہ بیگم