غلام فاطمہ بیگم صاحبہؓ، میمونہ بیگم صاحبہؓ — Page 11
غلام فاطمه بیگم ، میمونه بیگم 11 کوشش کرو۔خدا تعالیٰ نے آپ کی مدد کی اور آپ کا خاندان بمبئی سے بذریعہ بحری جہاز کراچی پہنچا۔اکتوبر 1947 ء میں جب غلام فاطمہ بیگم کا خاندان کراچی پہنچا تو ڈاکٹر صاحب نے گورنمنٹ ملازمت کی جگہ ذاتی پریکٹس کرنا چاہی مگر مشکل یہ تھی کہ اُس کے لئے سرمایہ میسر نہ تھا۔چنانچہ اس مشکل وقت میں وہ رقم کام آئی جو غلام فاطمہ بیگم نے روزانہ ملنے والے خرچ میں سے بچا کر جمع کر رکھی تھی۔غلام فاطمہ بیگم صاحبہ نے بتایا کہ بچپن میں وہ جلسہ پر قادیان جایا کرتی تھیں تو سیالکوٹ کی جماعت کے ساتھ دار مسیح میں حضرت کہاں جان کے گھر ٹھہرتی تھیں۔ایک دن حضرت سیّدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نے حضرت اماں جان سے کہا کہ آپ نے اتنی ملاز ما ئیں کیوں رکھ چھوڑی ہیں۔اس پر آپ (حضرت اماں جان ) نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک بزرگ کے گھر بہت ملازم تھے۔اُن بزرگ نے سوچا کہ صبح ان میں سے دو تین کو فارغ کر دوں گا۔رات خواب میں دیکھا کہ فرشتہ کندھے پر اناج کی بوریاں لاد کے گھر سے باہر لے جارہا ہے بزرگ نے خواب میں ہی اُن سے پوچھا کہ ہمارے گھر سے اناج کیوں لے کر جارہے ہو تو فرشتے نے جواب دیا یہ اُن کا رزق ہے جن کو تم کل نکالنے والے ہو۔اس واقعہ میں