غلام فاطمہ بیگم صاحبہؓ، میمونہ بیگم صاحبہؓ — Page 13
غلام فاطمه بیگم ، میمونہ بیگم 13 نے بڑوں کا احترام ، حیا کے آداب اور رہن سہن میں وقار کا درس دیا۔وہ سب بچیوں کو بلکہ نسبتا بڑی عمر کی خواتین کو بھی نرمی اور صاف گوئی سے کمزوری پر مطلع کرتیں۔جب وہ کراچی کی مجلس عاملہ میں تھیں ایک دفعہ صدر لجنہ کراچی کے سامنے کسی خاتون نے شکایت کی کہ اُن کی بہو نماز نہیں پڑھتی۔آپ اس قدر حیران ہوئیں کہ احمدی لڑکی اور نماز نہیں پڑھتی ! اور اس بات کو کئی مرتبہ دہرایا۔بچیوں کو نماز کی تلقین کرنے کے لئے یہ بات بہت دفعہ دہرایا کرتی تھیں۔ان کی بچیوں کو بھی ازبر ہو گیا تھا کہ احمدی لڑکی سے نماز میں نستی کس قدر خلاف توقع بات ہے۔بلکہ قابل شرم بات ہے۔وہ ہمیشہ دوپٹے کو بڑے سلیقے سے اوڑھتیں دن ہو یا رات سر ڈھکا رہتا۔ایک دفعہ ایک عزیزہ غلام فاطمہ بیگم صاحبہ سے ملنے آئیں تو فوراً اپنا اٹیچی کیس کھلوا کر ایک خوبصورت عمدہ سفید دو پٹہ نکال کر دیا کہ اسے اوڑھیں۔ایک بچی کو کہا کہ اسے دو پٹہ اوڑھنا سکھاؤ کہ کس طرح سر ڈھکتا ہے ہماری بہو بیٹیاں سر ڈھک کر رہتی ہیں۔اسی طرح ایک دفعہ ایک بچی کو بغیر دوپٹے کے دیکھا ، وہ ایران سے آئی تھی ، تو اُسے احساس دلانے کے لئے کہا کیا تم اپنا دوپٹہ شاہ ایران کو دے آئی ہو، یعنی آپ غلطی کی اصلاح سامنے کر دینا زیادہ مناسب خیال کرتی تھیں بجائے اس کہ کسی کی کمزوری