غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 43
43 قدر بدیاں ہیں وہ ان سے بچ جائیں تا کہ قوم کا ایک مفید جسم بن سکیں۔(مشعل راہ جلد چہارم) ہر ایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے۔تو یہ بہت ضروری چیز ہے۔اس کے لئے چنا چاہئے۔ہمارے کسی کام کا یہ نتیجہ نہ ہو کہ خدا ناراض ہو جائے یا کسی انسان کو تکلیف پہنچے آج کل عورتوں میں یہ بات زیادہ پائی جاتی ہے کہ وہ دوسری کو تکلیف پہنچا کر خود کچھ حاصل کر لینا اچھا بجھتی ہیں پھر عورتیں ایک دوسرے کو طعنے دیتی ہیں۔جنسی کرتی رہتی ہیں۔اور عیب نکالتی ہیں اور آخر کار لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔یہ سب با تیں تقویٰ کے خلاف ہیں اس قسم کے عیب عورتوں میں بہت ہیں۔ہر ایک ایسا کام جس سے خدا تعالیٰ ناراض ہو یا اُس کی مخلوق کیلئے دُکھ اور تکلیف کا باعث ہو اُس سے بچنا چاہئے۔( الفضل 27 /اکتوبر 1917، اوڑھنی والیوں کے پھول صفحہ 30) عیب کا عادی عیب کو عیب نہیں سمجھتا : جب انسان کو کسی عیب کی عادت ہو جاتی ہے پھر وہ اس عیب کو عیب نہیں سمجھتا اور اگر سمجھتا ہے تو کرتے وقت اُسے محسوس نہیں کرتا ایسے لوگوں کو اگر سمجھایا جائے تو انکار کر دیتے ہیں کہ ہم نے تو ایسا فعل نہیں کیا مجھے اس کا بہت تجربہ ہے کیونکہ ہر روز لوگوں سے معاملہ کرنا پڑتا ہے۔میں نے دیکھا کہ بہت لوگ ہیں ہمیشہ عیب چینی کرتے ہیں۔مگر وہ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہتے جاتے ہیں۔ہماری عادت نہیں کہ کسی کی عیب چینی کریں۔مگر یہ بات یوں ہے اور غالبا اگر وہ دن میں ہزار باتیں بھی دوسروں کی غیبت اور عیب چینی کی کریں تو ہر باروہ ساتھ یہ بھی کہیں گے کہ ہماری یہ عادت نہیں ہے کہ کسی کی عیب چینی کریں۔حالانکہ سو میں سے پچاس باتیں اُن کی عیب چینی کی