غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 38
38 اور ذکر ہے۔ماں نے دعا کی الہی میرا بچہ ایسا ہی ہو۔مگر بچے نے کہا کہ الہی میں نہ بنوں۔غرض کسی کو کسی کے حالات کی کیا خبر ہو سکتی ہے ہر ایک کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے ممکن ہے ایک شخص ایسا نہ ہو جیسا اسے سمجھا جاتا ہے۔لوگوں کی نگاہ میں حقیر ہو خدا کے نزدیک مقرب ہو۔پھر فرمایا :- وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ آیت میں آیا ہے۔یہاں عور تیں بیٹھی ہوئی نہیں مگر آدمی کا نفس بھی مونث ہے ہر ایک اس کو مراد رکھ سکتا ہے۔دوم اپنے اپنے گھروں میں یہ بات پہنچا دو کہ کوئی عورت دوسری عورت کی تحقیر نہ کرے اور اس سے ٹھٹھا نہ کرے۔تم ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نام نہ رکھو۔تم کسی کا برا نام رکھو گے تو تمہارا نام اس سے پہلے فاسق ہو چکا۔پھر بعض جڑیں ایک ایک میل تک لمبی چلی گئی ہیں۔میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہو اور بدی کو اس کی ابتداء میں چھوڑ دو۔( حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ 2-3-4، بدر 18 فروری 1909ء صفحہ 2) غیبت کی تشریح: پھر آپ غیبت کی ممانعت کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں:۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو عبد بنانا چاہا ہے۔تمام وہ اعضاء جو شریعت کے مطابق رکھے ہیں۔ان کو فرمانبرداری سکھائی ہے۔مثلاً اس کے متعلق حکم جاری کیا کہ لغومت بکو۔اب ہم کو واجب ہے کہ دیکھیں بولنا مفید ہے یا نہیں۔فرمایا بولومگر جھوٹ نہ بولو لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ (آل عمران :62) جھوٹ نہ بولیں تو پھر کیا کریں۔سچ بولیں مگر پھر یہاں بھی اپنی معبودیت کا رنگ جمایا ہے اور کہا کہ دیکھو کہ بیچ میں سے بھی ایک سی منع ہے وہ کیا؟