غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 37
37 نے چرالی۔ایک دن جب میں نے اپنے مکان سے الماریاں اُٹھوائیں تو کیا دیکھتا ہوں الماری کے پیچھے بیچوں بیچ کتاب پڑی ہے جس سے معلوم ہوا کہ کتاب میں نے رکھی تھی اور وہ پیچھے جا پڑی۔اس وقت مجھے دو معرفت کے نکتے کھلے۔ایک تو مجھے ملامت ہوئی کہ میں نے دوسرے پر بدگمانی کیوں کی۔دوم میں نے صدمہ کیوں اُٹھایا۔خدا کی کتاب اس سے بھی زیادہ عزیز اور عمدہ میرے پاس موجود تھی۔اسی طرح میرا ایک بستر تھا جس کی کل آٹھ نہیں ہونگی۔ایک نہایت عمدہ ٹوپی مجھے کسی نے بھیجی جس پر طلائی کام ہوا تھا ایک عورت اجنبی ہمارے گھر میں تھی۔اسے اس کام کا بہت شوق تھا اس نے اس کے دیکھنے میں بہت دلچسپی لی تھوڑی دیر بعد وہ ٹوپی گم ہوگئی مجھے اس کے گم ہونے کا کوئی صدمہ تو نہ تھا کیونکہ نہ میرے سر پر پوری آتی تھی نہ میرے بچوں کے سر پر۔مگر میرے عکس نے اس طرف توجہ کی کہ اس عورت کو پسند آ گئی ہوگی۔مدت ہوئی اس عورت کے چلے جانے کے بعد جب بستر کو جھاڑنے کے لئے کھولا گیا تو اس کی تہہ سے نکل آئی۔دیکھو بدظن کیسا خطرناک ہے اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کو سکھاتا ہے جیسا کہ اس نے محض اپنے فضل سے میری راہنمائی کی اور لوگوں سے بھی ایسے معاملات ہوتے ہونگے۔مگر تم نصیحت نہیں پکڑتے۔اس بدظنی کی جڑ سے ” کریڈ“ خواہ مخواہ کسی کے حالات کی جستجو اور تاڑ بازی۔اسی لئے فرمایا وَلا تَجَسَّسُوا اور پھر جس سے غیبت کا مرض پیدا ہوتا ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ ایک عورت کو مار رہے تھے یہاں تک کہ اسے کہا جاتا زَنَيْتِ سَرَقتِ تو نے زنا کیا تو نے چوری کی۔ایک سننے والی پر اس کا اثر ہوا اور اس نے دعا کی کہ الہی میری اولا د ایسی نہ ہو۔گود میں لڑکا بول اُٹھا۔الہی مجھے ایسا ہی بنائیو کیونکہ اس عورت پر بدظنی کی جارہی ہے۔اس واقعہ میں بہت اچھی چیز ہے۔اس طرح ایک