غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 10
10 حضرت مصلح موعود نے کیا خوب تحریر فرمایا ہے :- خدا اپنا عکس بندوں کے ذریعہ دکھاتا ہے مثلاً حضرت محمد مصطفی عمدا کا شیشہ تھے اور اُن سے خدا ظا ہر ہوتا تھا۔اس لئے میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم بھی خدا کی باتوں کو مانو اور اُن پر عمل کرو تو ہم میں سے ہر ایک شخص شیشہ ہے۔جس میں خدائے تعالیٰ اپنا چہرہ دیکھنا چاہتا ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ میں شیشہ بناؤں۔وہ شیشہ بندے کا دل بنایا۔اس پر اپنی شکل ڈالی۔تمہاری مثال اُس شیشہ کی مانند ہوگی جس میں منہ اچھی طرح دکھائی نہیں دیتا اور اُس کا مالک اُس کو پھینک دیتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اس شخص کو دے مارتا ہے اور اس کے مقابلے میں جو بندہ جتنا بھی نیک ہوتا ہے۔اتنا ہی اللہ تعالیٰ اُس پر فضل کرتا ہے اور جتنا برا ہوتا ہے خدا بھی اُسے ہلاک کر دیتا ہے۔اور جانوروں کی قدر اس آدمی سے زیادہ کرتا ہے۔حضرت حضرت نوح علیہ السلام کا واقعہ ہے کہ ایک درخت پر ایک چڑیا کا گھونسلہ تھا اور اس میں چڑیا نے بچے دیئے تھے۔جب طوفان آیا اور پانی بہت اونچا چڑھ گیا تو خدا تعالیٰ نے کہا کہ چڑیا کے بچے بہتر ہیں ان لوگوں سے جن پر میر اغضب نازل ہوا۔میں اُن لوگوں کو مار دوں گا مگر ان چڑیا کے بچوں کو بچالوں گا۔تو انسان کی غرض ہے کہ خدا تعالیٰ کے حکموں کو بجالا ؤ اور اس کی صفتوں کو ظاہر کرو اور کوئی کمزوری بھی اپنے اندر نہ رکھو۔اوڑھنی والیوں کے پھول صفحہ 46-47) تقریر جلسہ سالانہ دسمبر 1921ء) ہمارے گھروں کے سکون لوٹنے والے اکثر جھگڑے لگائی بجھائی اور غیبت کی وجہ سے ہوتے ہیں۔مثلاً ایک بہت مہربان نظر آنے والی خاتون آتی ہے بہو سے انتہائی ہمدردی دکھاتے ہوئے اُسے ساس کی بعض باتیں دلخراش انداز میں سناتی ہے۔