غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 62
62 میں بھی کوئی ایسی بات کرے جو اللہ کو پسند آجائے تو اللہ اس کے درجات بے حد بلند کر دیتا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا بے خیالی کی بات میں بھی نفسیات کا گہرا دخل ہوتا ہے۔دل میں اچھی بات ہوگی تو باہر آئے گی دوسری طرف یہ بھی بات ہے کہ بعض اوقات انسان لا پرواہی سے بھی بری بات کر بیٹھتا ہے دل میں ارادہ نہیں ہوتا ایسی باتوں سے بچنا چاہئے۔ایک اور حدیث کے حوالے سے حضور نے نجات کے تین ذرائع بیان فرمائے اور فرمایا اپنی زبان کو روک کر رکھو۔وہی بات کہو جو واقعی سچی ہو تیرا گھر تیرے لئے کافی ہے۔وضاحت کرتے ہوئے فرمایا جن کو گھروں میں سکون ملتا ہے ان کے لئے ان کا گھر ہی کافی ہوتا ہے اس لئے بتایا کہ وہیں پر تمہاری اولاد کے۔لئے نجات کے سامان ہوں گے پھر فرمایا کہ اپنی خطاؤں پر آنسو بہاتے رہو۔ایک اور حدیث میں ذکر ہے کہ بدترین آدمی وہ ہے جو دو منہ رکھتا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ ایک سے بات کرنے کے لئے ایک منہ ہو اور دوسرے سے بات کرنے کے لئے دوسرا منہ۔ایک سے کچھ کہے دوسرے سے کچھ اور۔تو وہ بڑا منافق ہو گا۔حضرت صاحب نے فرمایا یہ بڑی بیماری ہے اس سے بچنے کے لئے اپنا جائزہ لیتے رہیں۔صلى الله حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا تم میں سے بعض بظاہر مومن ہیں مگر ایمان کے اندر راسخ نہیں۔ان کو متنبہ کرو کہ کسی کو تکلیف نہ دیں۔جو عیب کی جستجو میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے عیوب دوسروں پر کھول دیتا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا جب دوسروں کے عیوب بیان کرو تو یاد رکھو تمہارے اندر بھی عیب ہیں جو خدا کی ستاری کے پردے میں ہیں وہ عیوب جو پہلے دکھائی نہیں دیتے تھے وہ لوگوں کو دکھائی دینے لگ جائیں گے۔حضرت صاحب نے فرمایا۔ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا