غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 63
63 دوسرے کی آنکھ کا تنکا بھی نظر آ جاتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر بھی بھول جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جتنی برائی تمہیں اپنے بھائی کی دکھائی دے رہی ہے اس سے زیادہ برائی تمہارے اندر ہے۔اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہو۔کھوج لگاؤ تو ویسی ہی برائی یا اس سے بھی بڑی برائی تمہارے اندر موجود ہوگی۔بہادرشاہ ظفر کا یہ شعر پڑھا۔نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر پڑی اپنی برائیوں پہ نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا پھر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے منظوم کلام سے ایک شعر پڑھا۔بدی پر غیر کی ہر دم نظر ہے مگر اپنی بدی سے بے خبر کسی کی غیبت نہ کر واخلاق حسنہ سیکھو : ہے حضور نے فرمایا غیبت کا مطلب یہ ہے کہ کسی کے بارے میں سچی بات کا اس کی عدم موجودگی میں بیان کرنا کہ اگر اس کی موجودگی میں بیان کرے تو اس کو برا لگے۔غیبت کا مطلب جھوٹی بات کو بیان کرنا نہیں بلکہ سچی بات کو بیان کرنا ہے جو بری لگے وہ غیبت ہے۔فرمایا کہ اگر ایک شخص میں وہ بات نہیں جو بیان کی گئی ہے تو پھر تو وہ بہتان ہے۔غیبت ہے ہی نہیں۔جھوٹی بات سے دو گناہ ہوں گے ایک جھوٹ اور ایک غیبت فرمایا:- بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو کہ سب ایک ہی چشمے سے پانی پیتے ہو۔بھائیوں کے لفظ میں خواتین بھی شریک ہیں۔نیکی اور تقویٰ میں ترقی کرو۔خدا کے فضل اسی راہ سے آتے ہیں۔آنحضرت کی سچی اور کامل اتباع کریں قرآن کریم کو اپنا دستور العمل بنالیں اس طریق پر عمل کریں گے تو اگر ساری دنیا بھی مل کر آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو نہیں کر سکے