غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 28
28 بھائی کے عیب دیکھ کر دعا کرو: ہماری جماعت کو چاہئے کہ کسی بھائی کا عیب دیکھ کر اس کے لئے دعا کریں۔لیکن اگر وہ دعا نہیں کرتے اور اس کو بیان کر کے دُور سلسلہ چلاتے ہیں تو گناہ کرتے ہیں کون سا ایسا عیب ہے جو کہ دور نہیں ہوسکتا اس لئے ہمیشہ دعا کے ذریعے سے دوسرے بھائی کی مدد کرنی چاہئے۔ایک صوفی کے دومرید تھے ایک نے شراب پی اور نالی میں بیہوش ہو کر گرا دوسرے نے صوفی سے شکایت کی۔اس نے کہا تو بڑا بے ادب ہے کہ اس کی شکایت کرتا ہے اور جا کر اُٹھا نہیں لاتا۔وہ اسی وقت گیا اور اُسے اُٹھا کر لے چلا۔کہتے تھے ایک نے تو بہت شراب پی لیکن دوسرے نے کم پی کہ اُسے اٹھا کر لے جا رہا ہے۔صوفی کا یہ مطلب تھا کہ تو نے اپنے بھائی کی غیبت کیوں کی۔آنحضرت ﷺ سے غیبت کا حال پو چھا تو فرمایا کہ کسی کی کچی بات کا اس کی عدم موجودگی میں اس طرح سے بیان کرنا کہ اگر وہ موجود ہو تو اُسے برا لگے غیبت ہے۔اور اگر وہ بات اُس میں نہیں ہے صلى الله اور تو بیان کرتا ہے تو اس کا نام بہتان ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ (الحجرات : 13) اس میں غیبت کرنے کو ایک بھائی کا گوشت کھانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔اور اس آیت سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ جو آسمانی سلسلہ بنتا ہے۔ان میں غیبت کرنے والے بھی ضرور ہوتے ہیں اور اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر یہ آیت بے کار جاتی ہے۔اگر مومنوں کو ایسا ہی مطہر ہونا تھا اور ان سے کوئی بدی سرزد نہ ہوتی تو پھر اس آیت کی کیا ضرورت تھی؟ بات یہ ہے کہ ابھی جماعت کی ابتدائی حالت ہے بعض کمزور ہیں جیسے سخت بیماری سے کوئی اٹھتا ہے بعض میں کچھ طاقت آگئی ہے پس چاہئے کہ جسے کمزور پاوے اُسے خفیہ نصیحت کرے اگر نہ مانے تو اس کے لئے دعا کرے اور اگر دونوں