غیبت ۔ ایک بدترین گناہ

by Other Authors

Page 75 of 82

غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 75

75 کی گئی ہے اس سے بدظن ہو۔“ (فتح الباری جلد 10 صفحہ 437) یک طرفہ بات سن کر گہرائی میں جا کر تحقیق ضروری ہے: اب یہ بڑے ہی پتے کی بات ہے جو امام غزائی نے بیان فرمائی ہے اور امیران اور عہدیداران کو خاص طور پر ذہن میں رکھنا چاہئے۔کبھی بات یک طرفہ سن کر کسی کے خلاف نہیں ہو جانا چاہئے کسی سے بدظن نہیں ہونا چاہئے اور ہمیشہ تحقیق کرنی چاہئے اور صحیح طریقے پر تحقیق کرنی چاہئے۔گہرائی میں جا کر تحقیق کرنی چاہئے۔پھر کوئی نتیجہ اخذ کیا جائے اور عموماً یہی ہوتا ہے کہ اکثر تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جو چغلی کرنے والے ہیں ان لوگوں کی اکثر رپورٹیں ایسی ہوتی ہیں کہ سب کچھ غلط تھا، صرف چغلی کی گئی تھی ، غیبت کی گئی تھی اور مقصد صرف یہ تھا کہ کسی طرح اس کو نقصان پہنچایا جائے۔پھر یہ بھی ہے کہ آئندہ ایسے شخص سے محتاط رہیں۔اس کی گواہی قبول نہ کریں۔اس کی رپورٹ پر کان نہ دھر ہیں۔غیبت کی ممانعت اور اصلاح معاشرہ: پھر تفسیر کبیر جلد نہم صفحہ 579 میں سے حضرت مصلح موعود کے حوالے سے فرمایا کہ غیبت کی ممانعت کے متعلق جو حکم دیا ہے اس میں حکمت یہ ہے کہ بسا اوقات انسان دوسرے کے متعلق ایک رائے قائم کر لیتا ہے اور وہ اپنے آپ کو اس رائے میں حق بجانب بھی سمجھتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ میں نے ٹھیک رائے قائم کی ہے۔لیکن در حقیقت اس کی یہ رائے صحیح نہیں ہوتی فرمایا کہ ہم نے بیسیوں دفعہ دیکھا ہے کہ ایک شخص کے متعلق ایک رائے قائم کر لی گئی کہ یہ ایسا ہی ہوگا اور یہ بھی یقین کر لیا جاتا ہے