غیبت ۔ ایک بدترین گناہ

by Other Authors

Page 72 of 82

غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 72

72 اپنی جنت کو ضائع کرتا پھرے۔چغلی سے اجتناب کیلئے ذیلی تنظیموں کوٹھوس لائحہ عمل کی تجویز: حضرت خلیفۃ اسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ملفوظات جلد 8 صفحہ 441 (جدید ایڈیشن) کے حوالے سے کہ غیبت کا مرض عورتوں میں زیادہ پایا جاتا ہے فرمایا:- یہ تو اس زمانے کی عورتوں کا حال تھا۔حضرت مسیح موعود کی جماعت میں شامل ہو کر بہت بڑی تعداد عورتوں کی اس بیماری سے پاک ہوگئی ہے اور اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے پیش کرتی ہیں اور بعض تو دین کی خدمت کے معاملے میں اور اس جذبے میں مردوں سے بھی آگے ہیں۔لیکن ابھی بھی بعض دیہاتوں میں بعض شہروں میں بھی جہاں عورتیں نہ دین کی خدمت کر رہی ہیں نہ کوئی اور ان کو کام ہے۔اس غیبت کی بیماری میں مبتلا ہیں۔اسی طرح مردوں کی بھی شکایات آتی ہیں۔مجلسوں میں بیٹھ کر لوگوں کے متعلق بات کر رہے ہوتے ہیں تو ایسے مرد کے بیوی بچے بے چارے کما کر گھر کا خرچ چلا رہے ہوتے ہیں۔اور ایسے لوگوں کو شرم بھی نہیں آ رہی ہوتی۔بہر حال یہ بیماری چاہے عورتوں میں ہو یا مردوں میں اس سے بچنا چاہئے۔نظام جماعت کو بھی چاہئے ، خدام، لجنہ وغیرہ کو اس بارہ میں فعال ہونا چاہئے کیونکہ یہ بیماری دیہاتی ، ان پڑھ اور فارغ عورتوں میں زیادہ ہے اس لئے لجنہ کو خاص طور پر دنیا میں ہر جگہ مؤثر لائحہ عمل اس کے لئے تجویز کرنا چاہئے۔پھر ان باتوں کے علاوہ جن کی نشاندہی حضرت مسیح موعود نے فرمائی ہے۔یہ بھی بیماری پیدا ہو گئی ہے کہ فارغ وقت میں اسی طرح لوگوں کے گھروں میں بے وقت چلی جاتی ہیں اور اگر کسی غریب نے اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم