غیبت ۔ ایک بدترین گناہ

by Other Authors

Page 73 of 82

غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 73

73 رکھا ہوا ہے اس طرح اندر گھستی ہیں گھروں میں کہ اُن کے کچن تک میں چلی جاتی ہیں۔کھانوں کی ٹوہ لگاتی ہیں کہ کیا پکا ہے کیا نہیں پکا اور پھر بجائے ہمدردی کے یا ان کی مدد کرنے کے یا کم از کم اُن کے لئے دعا کرنے کے مجلسوں میں باتیں کی جاتی ہیں کہ پیسے بچاتی ہے۔سالن کی جگہ چٹنی بنائی ہوئی ہے۔یا پھر اتنا تھوڑ ا سالن تھا، یا فلاں تھا، یہ تھا، وہ تھا، کنجوس ہے۔وہ کنجوس ہے یا جو بھی اپنا گھر چلا رہی ہے جس طرح بھی چلا رہی ہے تمہارا کیا کام ہے کہ کسی کے گھر کے اندر گھس کر اس کے عیب تلاش کرو اور پھر جب ایسے سفید پوش لوگوں کے گھروں میں بچیوں کے رشتے آتے ہیں تو پھر ایسی عورتیں Active ہو جاتی ہیں۔بڑی فعال ہو جاتی ہیں اور جہاں سے کسی کا رشتہ یا پیغام آیا ہو وہاں پہنچ جاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ان کے گھر میں تو کچھ بھی نہیں ہے وہاں سے تو تمہیں جہیز بھی نہیں مل سکتا۔اس لڑکی میں فلاں نقص ہے تو میں تمہیں بتاتی ہوں۔فلاں جگہ ایک اچھا رشتہ ہے۔یہاں نہ کرو وہاں کرو۔گو جماعت میں ایسے لوگوں کی تعداد انتہائی کم ہے، معمولی ہے، پھر بھی فکر کی بات ہے کیونکہ جس معاشرے میں ہم رہ رہے ہیں وہ ایسا ہی ہے اور یہ معاشرہ بہر حال اثر انداز ہوتا ہے۔اور یہ باتیں بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ایک حدیث ہے جو ایسے لوگوں کے بارہ میں ہی ہے۔حضرت عبدالرحمن بن غم اور حضرت اسماء بنت یزید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندے وہ ہیں کہ جب ان کو دیکھا جائے تو اللہ یاد آ جائے اور اللہ تعالیٰ کے برے بندے غیبت اور چغلیاں کرتے پھرتے ہیں۔دوستوں پیاروں کے درمیان تفریق ڈالتے ہیں۔نیک پاک لوگوں کو تکلیف ، مشقت ،فساد، ہلاکت اور گناہ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔(مسند احمد بن حنبل- مسند الشامین)