غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 69
69 ہے۔تیسری برائی یعنی غیبت میں ہی دونوں آ جاتی ہیں۔کیونکہ ظن ہوتا ہے تو تجسس ہوتا ہے۔اس کے بعد غیبت ہوتی ہے تو اس آیت میں یہ فرمایا کہ غیبت جو یہ مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے اب دیکھیں ظالم سے ظالم شخص بھی، سخت دل سے سخت دل شخص بھی کبھی یہ گوارا نہیں کرتا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔اس تصور سے ہی اُبکائی آنے لگتی ہے، طبیعت متلانے لگتی ہے۔ایک حدیث ہے۔قیس روایت کرتے ہیں کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اپنے چند رفقاء کے ساتھ چلے جارہے تھے آپ کا ایک مردہ خچر کے پاس سے گذر ہوا جس کا پیٹ پھول چکا تھا۔مرے ہونے کی وجہ سے پیٹ پھول جاتا ہے۔کافی دیر سے پڑا تھا۔آپ نے کہا بخدا تم میں سے اگر کوئی یہ مردار پیٹ بھر کر کھالے تو یہ بہتر ہے کہ وہ کسی مسلمان کا گوشت کھائے یعنی غیبت کرے یا چغلی کرے۔الادب المفرد للبخاری، باب الغیبة وقول اللہ تعالیٰ ولا يغتب بعضكم بعضا) تو بعض طبائع ہوتی ہیں۔اس طرح مرے ہوئے جانور کو، جس کا پیٹ پھول چکا ہو، اس میں سے بد بوسخت آ رہی ہو، تعفن پیدا ہورہا ہو، اس کو بعض طبیعتیں دیکھ بھی نہیں سکتیں ، کجا یہ کہ اس کا گوشت کھایا جائے۔لیکن ایسی ہی بظاہر حساس طبیعتیں جو مردہ جانور کو تو دیکھ نہیں سکتیں۔اس کی بدبو بھی برداشت نہیں کرسکتیں، قریب سے گذر بھی نہیں سکتیں۔لیکن مجلسوں میں بیٹھ کر غیبت اور چغلیاں اس طرح کر رہے ہوتے ہیں جیسے کوئی بات ہی نہیں تو یہ بڑے خوف کا مقام ہے۔ہر ایک کو اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے اور استغفار کرو: ہر ایک کو اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے۔اب یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ اپنے بندوں پر کتنا مہربان ہے، کہ فرمایا اگر اس قسم کی باتیں پہلے کر بھی چکے ہو تو استغفار کرو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، اپنے رویے درست کرو، میں یقیناً یقیناً بہت رحم 6