غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 59
59 ہے تو بہتان۔جو اس سے بھی زیادہ بڑا گند ہے۔اگر سچ ہے تو غیبت ہے ان معنوں میں کہ بھائی مر چکا ہے اور مرے ہوئے بھائی کو ڈیفنس کا موقع نہیں دیا گیا اس کی عدم موجودگی میں اس پر حملہ کیا گیا۔گویا اس کا گوشت کھایا گیا اور اس کے مزے اُڑائے گئے اور بہتان کا مطلب ہے کسی کو قتل کر دینا یعنی روحانی دنیا میں بہتان قتل کے مشابہ ہے تو یہ تو قتل کا گناہ ہے۔جو مرے ہوئے کا گوشت کھانے سے زیادہ مکروہ تو نہیں مگر زیادہ بڑا ظلم ضرور ہے اور زیادہ قابل مواخذہ ہے۔اس کسوٹی پر اپنی اندرونی حالتوں کا جائزہ لیں : جب تک آپ کا ذوق درست نہیں ہوتا اور خدا کی وہ محبت دل میں پیدا نہیں ہوتی اور وہ نظر آپ کو عطاء نہیں ہوتی۔جس نظر سے خدا اپنے بندوں کو دیکھتا ہے اس وقت تک آپ کو پتہ ہی نہیں لگے گا کہ آپ غیبت کرتے ہیں تو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہے ہیں۔اور اس سے کراہت کا نہ ہونا آپ کے بگڑے ذوق کی نشانی ہے۔پس اتنی کھلی کھلی ایک نشانی آپ کے ہاتھوں میں تھما دی ہے کہ اس کسوٹی پر اپنی اندرونی حالتوں کا جائزہ لینا ایک فرضی بات نہیں رہی۔بلکہ ایک یقینی حقیقت بن چکا ہے۔پس جس حد تک ہم اس کسوٹی کے ظاہر کردہ نتیجے کی رو سے نا کام ہورہے ہیں۔اس حد تک ہمیں اپنی فکر کرنی چاہئے یہ کسوٹی وہ ہے جو جھوٹ نہیں بولتی۔کیا غیبت سے آپ کو مزہ آتا ہے؟ پس اپنے ذوق درست کریں تو پھر آپ کو خدا سے محبت ہو گی اپنے ذوق درست کریں پھر آپ کو رسول اللہ سے محبت ہو گی اپنے ذوق درست کریں تب گناہوں سے دوری ہو سکتی ہے اور نیکیوں سے پیار ہوسکتا ہے۔ورنہ نہیں ہوسکتا۔پس غیبت کے حوالے سے میں اگلا تقاضا آپ سے یہ کر سکتا ہوں کہ اپنے دل کا یہ جائزہ