غیبت ۔ ایک بدترین گناہ

by Other Authors

Page 60 of 82

غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 60

60 لیں کہ آپ کو غیبت میں کتنا مزہ آ رہا ہے۔اگر ایک دم یہ نہیں چھٹتی منہ سے اور رفتہ رفتہ جائزہ لیں تو آپ کے دل میں اس کا ذوق و شوق کم ہوتا چلا جارہا ہے کہ نہیں ؟ اگر کم ہو رہا ہے تو شکر ہے آپ بیچ رہے ہیں۔گویا آپ رو بہ صحت ہورہے ہیں۔اگر زور لگا کر نصیحت سن کر آپ کہتے ہیں کہ میں نے غیبت نہیں کرنی اور پھر آپ کرتے ہیں اور مزہ اتنا ہی آتا ہے تو اس کا مطلب ہے آپ کی اصلاح کوئی نہیں ہوئی۔زبر دستی تعلق کاٹنے کی کوشش کی گئی ہے اور جو طبعی رجحانات ہیں ان کے رستے زبر دستی بند نہیں ہوا کرتے کچھ دیر تک ہوں گے پھر کھل جاتے ہیں اور پھر بڑھ کر بعض دفعہ بدیوں کا سیلاب پھوٹ پڑتا ہے اس لئے غیبت کے معاملے کو اہمیت دیں اور اس کو گہرائی سے دیکھیں جس طرح میں نے آپ کے سامنے اس کو کھول کر بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔اور یقین کریں کہ اگر ہم غیبت سے مبرا ہو جائیں بحیثیت جماعت تو ہمارا نظام بھی محفوظ ہو جائے گا ہمارے معاشرتی تعلقات بھی محفوظ ہو جائیں گے۔ہمارے اندر جتنی رخنہ پیدا کرنے والی باتیں ہیں وہ اگر سب دور نہیں ہوتیں تو ان میں غیر معمولی کمی ضرور پیدا ہو جائے گی اور وہ بدنتائج جو روزانہ شادیوں کی ناکامی کی صورت میں ہمیں دکھائی دیتے ہیں ان پر بھی غیر معمولی مثبت اثر ظاہر ہوگا۔مجلس کی امانت کا حق رکھنا : بعض دفعہ غیبت کی بجائے مجلس کی امانت کا حق نہ رکھا تو بھی غیبت بن جاتی ہے۔ہم جب آپس میں ملتے ہیں۔ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرتے ہیں تو بعض دفعہ ایک شخص غیبت کی نیت سے نہیں بلکہ حوالوں کی وجہ سے ایک شخص کا ذکر کر دیتا ہے۔جسے سب جانتے ہیں اس کی کوئی چھپی ہوئی بدی بیان نہیں کی جاتی جس کا ان کو علم نہ ہو بلکہ کسی گفتگو کے حوالے سے از خود یہ بات جاری ہو جاتی ہے