غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 20
20 بالکل ایسے ہی مزید وضاحت کے ساتھ حدیث ہے۔ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول مقبول نے فرمایا کہ لوگو جانتے بھی ہو کہ غیبت کسے کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا ” غیبت یہ ہے کہ تو ذکر کرے اپنے بھائی کا اس کی غیر حاضری میں ایسا کہ اگر وہ اسے سنے تو اسے برا لگے کسی نے کہا حضور اگر وہ بات سچی ہو تو کیا تب بھی وہ غیبت ہے؟ آپ نے فرمایا اگر بیچ ہو تو غیبت ہوگی ورنہ جھوٹ ہو تو بہتان ہے۔(مسلم) حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول مقبول سے عرض کیا کہ صفیہ (آپ کی بی بی) ٹھگنی (پستہ قد ) ہے آپ نے فرمایا عائشہ تو نے ایک ایسی بات کہی کہ اگر وہ ایک بھرے ہوئے دریا میں ڈالی جائے تو سب کو کڑوا کر دے۔(ابوداؤد) حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا کہ معراج کی رات میں میں کچھ لوگوں کے پاس سے گذرا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے سینے اور چہرے کو نوچتے تھے۔میں نے کہا اے جبرائیل یہ کون لوگ ہیں؟ جبرائیل نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں لوگوں کی بدگوئیاں کرتے تھے یعنی غیبت۔(ابوداؤد) ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول مقبول نے فرمایا کہ لوگو میرے سامنے ایک دوسرے کی بدگوئیاں نہ کیا کرو کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں گھر سے نکلوں اور تمہاری مجلسوں سے آؤں تو میرا سینہ سب کی طرف سے صاف ہو۔(ترمذی) مذہب کی بنیاد دوستونوں پر ہے: ان میں ایک ستون اللہ کے حق کی ادائیگی ہے تو دوسر استون بنی نوع انسان کے حقوق کی ادائیگی ہے ان میں اسی لئے آنحضور نے فرمایا کہ آپس میں نرمی کرو یہ پیار اور محبت کا موجب ہے۔جیسا کہ حضرت عائشہ سے روایت ہے۔