غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 66
66 صلى جہاں تکرار ہوتی ہے وہاں پر نیا نکتہ ضرور بیان ہوتا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔اللہ کا کسی سے رشتہ ناتہ نہیں اس کو کوئی پرواہ نہیں کہ تم کس خاندان سے ہو۔حضرت رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی بیٹی فاطمہ سے فرما دیا تھا کہ یہ نہ سمجھنا کہ تم نبی کی بیٹی ہونے کی وجہ سے بخشی جاؤ گی۔میں بھی خدا کے فضل سے ہی بخشا جاؤں گا۔حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا۔یا رسول اللہ ! آپ بھی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں میں بھی۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے فرمایا دعا کے ذریعہ بخشش کی کوشش کرتے رہیں خدا کرے کہ خدا کا فضل بغیر دعا بھی آپ پر نازل ہوتا رہے۔( خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ 31 / جولائی 1999ء خواتین سے خطاب) ( منقول ماہنامہ مصباح ربوہ ستمبر 1999 ء صفحہ 6-11) اُردو کلاس کی باتیں: حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے کلاس نمبر 448 ( ریکارڈ شدہ 23 /جنوری 1999ء) میں ذوالفقار علی کی وضاحت میں فرمایا ذوالفقار علی - علی کی تلوار اس دلیل کے لئے بھی یہ محاورہ استعمال ہوتا ہے جو بہت کاٹنے والی ہو جس کا کوئی جواب نہ ہو۔حضرت سعدی کہتے ہیں جس طرح حضرت علی کی تلوار میان میں ہے اسی طرح میری زبان میرے منہ میں بند ہے جب کھولوں گا پھر اس کے جو ہر کھلیں گے۔جب تک منہ میں بند بیٹھی ہوئی ہے کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ کیا بند ہے۔تلوار بھی جب میان سے نکلے اور چمکے تو اس وقت پتا چلتا ہے کہ یہ کیا بلا ہے کیا چیز ہے۔کتنی کاٹنے کی طاقت رکھتی ہے۔اے سعدی! میری زبان بھی منہ میں بند پڑی ہے۔جب بولوں گا تو لوگوں