غیبت ۔ ایک بدترین گناہ

by Other Authors

Page 61 of 82

غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 61

61 اگر کوئی شخص اس بات کو اُٹھائے اور باہر بیان کر دے تو یہ امانت میں خیانت ہے۔کیونکہ یہ امانتیں ہیں اور ان کی بات بغیر اجازت کے بغیر حق کے باہر کرنا ایک گناہ ہے اور یہ بھی ایک ایسی چیز ہے جس کے متعلق بہت احتیاط کی ضرورت ہے لیکن میں اصول بتا دیتا ہوں کہ کہاں امانت ہے کہاں ایک ایسی نصیحت ہے جس کا بنی نوع انسان کی بہتری سے تعلق ہے۔بھلائی سے تعلق ہے۔ایسی بات ہے جسے سن کر ایمان تازہ ہوتا ہے تو یہ وہ امانت نہیں ہے جس کو آپ پوچھے بغیر آگے بیان نہیں کر سکتے اس کے متعلق فرمایا کہ جو حاضر شاہد ہے وہ غائب کو یہ باتیں بیان کرے کیونکہ اچھی باتیں ہیں اور ان کے نتیجے میں خیر پھیلتی ہے۔مگر اگر اس مجلس میں کسی ایک شخص کا ذکر آیا ہے اور اس کو اگر دوسروں میں بیان کیا جائے تو اس شخص کے خلاف دلوں میں نفرت پھیلے گی تو اس کو دوسروں میں بیان کرنا بھی نا جائز ہے اس تک بات پہنچانا بھی ناجائز۔اگر کسی مقصد مجبوری سے بات کرنی ہو تو لازم ہے کہ اس سے اجازت لی جائے جس نے مجلس میں یہ بات بیان کی تھی۔اگر ہم پوری طرح اس اصول پر کاربند ہو جائیں تو غیبت کے سارے راستے بند ہو جاتے ہیں۔خطبہ جمعہ 18 نومبر 1994ء، الفضل 13 دسمبر 1994 ،15/ مارچ 2001ء) / غیبت، چغل خوری، بدظنی اور مخش کلامی سے بچنے کی پر زور تلقین : حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے جلسہ سالانہ برطانیہ 31 جولائی 1991ء کے موقع پر خواتین سے خطاب فرمایا۔آپ نے فرمایا :- آنحضرت ﷺ کے ارشادات بہت مختصر مگر بہت گہرے ہوتے ہیں ان میں عرفان کا سمندر موجود ہوتا ہے یہ آنحضرت کی شان ہے۔حضرت ابو ہریرہ کی روایت کردہ حدیث بیان فرمائی کہ انسان اگر بے خیالی