غلبہء حق — Page 291
۲۹۱ پہلی اور دوسری تبدیلی عقیدہ کے الزام کا جواب تو ہم دے چکے ہیں کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رض نے لالہ سے پہلے نہ حضرت مسیح موعود کے انکار کو کفر قرار دینے سے انکار کیا تھا اور نہ نبی قرار دینے سے بلکہ آپ نے شاہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی آپ کو نبی لکھا تھا۔اب جس امر کو آپ تیسری تبدیلی قرار دیتے ہیں اس کی حقیقت سنئے۔یہ تیسری تبدیلی قرار دینے میں ایک مغالطہ ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ آئینہ صدات اور انوار خلافت میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے غیر از جماعت مسلمانوں کو اسلام کی ظاہری چار دیواری سے ہر گرا خارج قرار نہیں دیا تھا۔رانوار خلافت میں ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں کے الفاظ سے غیر احمدیوں کے ظاہر میں مسلمان ہونے سے انکار نہیں کیا گیا ویسے تو ایسے الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی استعمال فرمائے ہیں دیکھیئے حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں :۔یہ ایک شریعیت کا مسئلہ ہے کہ مومن کو کافر کہنے والا آخر کافر ہو جاتا ہے۔پھر جبکہ قریباً دو سو مولویوں نے مجھے کا فرٹھرایا اور میرے پر کفر کا فتوی لکھا گیا اور انہی کے فتولی سے یہ بات ثابت ہے مومن کو کافر کہنے والا کافر ہو جاتا ہے اور کافر کو مومن کہنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے تو اس بات کا سہل علاج ہے کہ اگر دوسرے لوگوں میں تخم دیانت اور ایمان ہے اور وہ منافق نہیں تو ان کو چاہیے کہ ان مولویوں کے بارے میں ایک لمبا اشتہار مہر ایک مولوی کے نام کی تصریح سے شائع کر دیں کہ یہ سب کافر