غلبہء حق

by Other Authors

Page 259 of 304

غلبہء حق — Page 259

۲۵۹ نے مجھے خلافت کا کرتہ پہنا دیا۔میں اس کی عزت اور ادب کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔باوجود اس کے کہ میں تمھارے مال اور تمھاری کسی بات کا بھی روادار نہیں اور میرے دل میں اتنی بھی خواہش نہیں کہ کوئی مجھے سلام کرتا ہے یا نہیں۔تمھارا مال جو میرے پاس نذر کے رنگ میں آتا تھا۔اس سے پہلے اپریل تک میں اسے مولوی محمد علی کو دیدیا کرتا تھا۔مگر کسی نے غلطی میں ڈالا اور اس نے کہا کہ یہ ہمارا روپیہ ہے اور ہم اس کے محافظ ہیں۔تب میں نے محض خدا کی رضاء کے لیے اس روپیہ کا دینا بند کر دیا۔کہ میں دیکھوں کہ یہ کیا کر سکتے ہیں۔ایسا کہنے والے نے غلطی کی ، نہیں بے ادبی کی۔اسے چاہیے کہ وہ تو بہ کرے۔اب بھی تو بہ کرے۔اب بھی تو بہ کرے۔ایسے لوگ اگر تو یہ نہ کریں گے تو اُن کے لیے اچھا نہ ہوگا۔( بدر یکم فروری ۱۹۱۷ئه صت ) پھر لاہور میں حضرت خلیفہ الاولی رض نے تقریر فرمائی کہ :- ر خلافت کمیسری کی دکان کا سوڈا واٹر نہیں۔تم اس بکھیڑے سے کچھ فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔نہ تم کو کسی۔نے خلیفہ بنانا ہے اور نہ میری زندگی میں کوئی اور بن سکتا ہے۔میں جب مرزنگا تو پھر دہی کھڑا ہوگا، جس کو خدا چاہے گا۔اور خدا اسے آپ کھڑا کرے گا