غلبہء حق — Page 225
۲۲۵ فاروقی صاحب کے والد ماجد ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے کسی قیمت لکھا تھا :- آج میاں محمد د صاحب کی گدی کے زمانہ میں جو کچھ ترتی اس فریق کو ہے۔محض اس وجہ سے ہے کہ بنا بنا یا کام بنی بنائی جماعت بنی بنائی قومی جائیدادیں، سکول بورڈنگ روپیہ خزانہ سبھی کچھ مل گیا۔راس وقت خزانے میں صرف چند آنے تھے۔ناقل ) قادیان کا مرکز اور مسیح موعود کا بیٹا ہونا کام بنا گیا۔قادیان کی گدی نہ ہوتی ھیچ موعود کا بیٹا نہ ہوتے اور کہیں باہر جا کر میاں محمود صبا اپنے عقیدہ تکفیر و نبوت کو پھیلا کر دکھاتے اور پھر نئے سرے سے جماعت بنتی اور ترقی ہوتی تو کچھ بات ہوتی۔دپیغام صلح ۱۵ار دسمبر ۱۳۳ش) فاروقی صاحب آپ دیکھ لیں کہ ربوہ میں قادیان کی طرح مضبوط مرکز حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی توجہ سے بن گیا ہے یا نہیں۔اگر اب بھی آپ لوگوں کو خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ کی کامیابی نظر نہ آئے تو ہم بجز اس کے کیا کہہ سکتے ہیں ے گر نه بیند بروز شیره هستم چشمه آفتاب را چه گناه فاروقی صاحب کی یہ بات بالکل در داغ نے فروغ ہے کہ میاں محمود احمد نے وہاں (قادیان ناقل) سے برقع پہن کر عورت کا بھیس بدل کر جان بچائی۔رفتم حق مش )