غلبہء حق

by Other Authors

Page 214 of 304

غلبہء حق — Page 214

۲۱۴ رالف ایک الہام ہوا " النتنة ههنا " یعنی خاص فتنہ یہاں پہلے سے موجود ہے ، تذکرہ مشا پھر مصلح موعود کی آمد اور پھر اس کے غلبے پر الہام ہوا وامتازوا اليوم أيها المجرمون تذكره م ربینی فتنه پردازوں اور مجرموں کا ظاہر ہو جانا ، اور پھر اُن کا یہ کہنا " انا كنا خاطئين تذکرہ صاحب کہ واقعی ہم خطا کا رتھے۔اس بات کی طرف صاف دلالت کرتا ہے کہ فتنہ پرداز لڑ کا پہلے پیدا ہو گا ، اور مصلح موعود لبر میں آئیگا۔(فتح حق صا) الجواب : یہ نتیجہ جو ان الہامات سے نکالا گیا ہے سراسر جھوٹ اور بے بنیا ہے ان میں سے پہلے الہام میں فاروقی صاحب نے الفتة ههنا كا ترجمہ یہ کیا ہے اس جگہ ایک فتنہ موجود ہے اور مراد اس سے حضرت خلیفہ ایج الثانی کا وجو د لیا ہے۔حالانکہ یہ ترجمہ غلط ہے حضرت اقدس اس جگہ پورے الہام کا ترجمہ میں کا فاروقی صاحب نے ایک حصہ پیش کیا ہے ، یوں تحریفہ فرماتے ہیں :۔اس جگہ ایک فتنہ ہے سوا ولوالعزم نبیوں کی طرح صبر که وجب خدا مشکلات کے پہاڑ پر تجلی کرے گا تو انہیں پاش پاش کر دے گا یہ خدا کی قوت ہے جو اپنے بندے کے لیے وہ غنی مطلق ظاہر کرے گا۔" یہ الہام ۱۸۸۳ء کا ہے ملاحظہ ہو منا اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود محمد صاحب اس الہام سے چھے سالی بعد پیدا ہوئے۔اور یہ الہام بقول خارقی صاب