غلبہء حق — Page 118
۱۱۸ دعوئی صریح غیر معقول اور مضحکہ خیز قرار پاتا ہے اسی لیے تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ جو شخص پہلے میسج کو افضل سمجھتا ہے اسے قرآن وحدیث سے ثابت کرنا چاہیے کہ آنے والا سیح نہ نبی کہلا سکتا ہے نہ حکم۔اس جگہ نبی معنی محدث کسی طرح مراد نہیں ہو سکتا کیونکہ محدث تو نبی سے ضروری اور یقینی طور پر کم درجہ کا ہوتا ہے پس محض محدث ایک کامل نبی کے مقابلہ میں اس سے اپنی تمام شان یعنی مجموعی شان میں بہت بڑھ کر موسی نہیں سکتا کیونکہ محدث میں تو شان نبوت ناقص طور پر پائی جاتی ہے۔ایک محترت تو نبی کے مقابلہ میں ہمیشہ اپنی تمام شان میں کمتر درجہ کا ہو گا۔کیونکہ ناقس مشان نبوت کامل شان نبوت کے مقابلہ میں کمتر درجہ رکھنے پر تو دلیل ہو سکتی ہے لیکن ایک کامل شان والے بنی سے اپنی تمام شان میں افضل ہونے پر دلیل نہیں ہو سکتی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان نبوت اگر مسیح اسرا علی علیہ السلام کی شان نبوت کے مقابلہ میں کم درجہ کی قرار دی جائے تو پھر مسیح موعود کی یہ پوزیشن کہ آپ اپنی تمام نشان میں حضرت مسیح علیہ السلام سے بہت بڑھ کر میں بالکل مضحکہ خیز بن جاتی ہے۔اس صورت میں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ آپ اپنی شان نبوت میں تو حضرت مسیح علیہ السلام سے در اصل کم درجہ پر ہیں اور معاذ اللہ جھوٹے طور پر یہ دعوی کر رہے ہیں کہ آپ اپنی تمام شان میں حضرت میسج ابن مریم علیہ السلام سے بہت بڑھ کر ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نزول اسے صلہ پر تحریر فرماتے ہیں :- پھر دو نو سلسلوں (سلسلہ موسوی و محمدی) کا تقابل پورا کرنے کے لیے ضروری تھا کہ موسوی سیح کے مقابل پر محمدی میں بھی شان نبوت کے سانحہ آوے تار اس نبوتِ عالیہ کی