غلبہء حق — Page 189
نہ دلائی۔مجد واحمدیت | تعجب ہے کہ فاروقی صاحب نے اپنی کتاب فتح حق" کے صلہ پر اپنی کتاب کا انتساب مولوی محمد علی صاحب کے نام پر کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھتے ہیں :- انتساب حضرت مولانا محمد علی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے نام پر جنہیں اگر مجددِ احمدیت کہا جائے تو بجا ہے" لیکن اس کے خلاف حضرت خلیفہ اصبح الاول رضی اللہ عنہ نے مجددا حمایت کے ظہور کو قادرت ثانیہ قرار دیتے ہوئے ۳۰ برس کے بعد ظاہر ہونے کی امید دلائی تھی اور ان کی یہ بات حضرت خلیفہ المسیح الثانی رض کے حق میں لفظ بلفظ پوری ہو گئی ہے۔کیونکہ اس نوٹ سے ٹھیک تیس برس بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ پر آپ کے مصلح موعود ہونے کا انکش ہو گیا۔جو در حقیقت مجد واحمدیت کہلانے کے اہل ہیں - وہ تو سو بار ندامت سے جھکا لیں آنکھیں مگر آتا بھی ہو جب اُن کو پشیماں ہونا فاروقی صاحب کو اس بات کا اعتراف ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اپنے مصلح موعود ہونے کے اعلان میں فرما دیا تھا کہ آپ مامور نہیں فتح حق صت ۳۔یہی بات حضرت خلیفہ اسیح الثانی امید اللہ تعالٰی نے 19 میں کسی ہے۔چنانچہ ایک دوست نے سوال کیا :- جس شخص کو حضور کے مصلح موعود ہونے کا علم دیا جائے اور اس پر حجت تمام کردی جائے تو پھر بھی