غلبہء حق

by Other Authors

Page 130 of 304

غلبہء حق — Page 130

طفیل حاصل کیا اور آپ کی بنی یا امتی نبی ہیں نہ کہ تشریعی یا منتقل نہیں۔نزول المسیح حدہ پر اسی حقیقت کے پیش نظر آپ نے اپنا نام مستعار طور پر نبی اور رسول لکھا ہے یعنی آپ کی نبوت ورسالت رسول کریم ملی باشد علیہ وسلم کے طفیل ہے نہ کہ براہ راست - انشاء کے بعد حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں :- اس اُمت میں ہزار ہا اولیاء گزرے اور ایک ہ بھی ہوا جو اتنی بھی ہے اور نبی بھی " (حقیقة الوحی مثل ) پس اولیاء اللہ آپ کے مقابلہ میں حقیقی امتی بنی نہیں ہیں اور مسیح موعود ان سب کے مقابلہ میں حقیقی امتی بنی ہیں یا کا ملا ظلی نبی ہیں۔اور یہ ہم بتا چکے ہیں کہ خطی نبوت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نبوت ہی کی ایک قسم قرار دیا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں :- ایک قسم کی نبوت ختم نہیں جو اس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پیروی سے ملتی ہے جو اس کے چراغ سے نور لیتی ہے وہ ختم نہیں کیونکہ وہ محمدی نبوت ہے یعنی اس کا ظل۔خیمه معرفت ۳۲۵) پس استفتاء میں مجاز کے لفظ سے واقعیت سے انکار کا دھوکا نہیں کھانا چاہیئے۔یہ مجاز ایک نسبتی چیز ہی ہے جو مقام امتی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی اور طفیلی طور پر ملتا ہے وہ اپنی ذات میں تو حقیقی ہوتا ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے اس کی حیثیت مجازی یعنی ظلی اور طفیلی ہی ہوتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔