غلبہء حق — Page 131
کوئی مرتبہ شرف و کمال کا اور کوئی مقام عزت و قرب کا بجز ستی اور کامل متابعت اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم ہر گز حاصل کر ہی نہیں سکتے۔ہمیں جو کچھ بھی ملتا ہے ظلی اور طفیلی طور پر ملتا ہے۔" پر (ازاله او نامه صه (۱۳) اس سے ظاہر ہے کہ امت میں جو شخص مومن ہو وہ طلی مومن ہی ہوتا ہے۔جو دلی ہو، غوث ہو، قطب ہو یا محدث ہو وہ یہ مقام ملی طور پر ہی حاصل کرنا ہے۔پس علی کا لفظ جس طرح اِن مقامات کے ساتھ حقیقت کی نفی نہیں کرتا بلکہ صرف واسطہ کو ظاہر کرتا ہے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لیے ظلی نبی کی اصطلاح میں طلبی کا لفظ واسطہ کو ظاہر کرنے کے لیے ہے نہ کہ نبوت کی نفی کے لیے کیو نکا ظلی کا لفظ صفت ہے اور نبوت یا نبی اس کا موصوف۔اور یہ صفت موصوف کی نفی نہیں کرتی بلکہ اس کی خصوصیت ظاہر کرتی ہے کہ اس کو یہ مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ملا ہے۔فاروقی صاحب ! اس عبارت کے رو سے تو محدثیت بھی ملی او طفیلی طور پر ہی ملتی ہے اور حضرت اقدس میسج موعود بھی طلقی اور طفیلی طور پر ہی ہیں۔لہذا فاروقی صاحب بتائیں کہ آپ حضرت اقدس کو حقیقت میں مسیح موعود بھی مانتے ہیں یا نہیں ؟ سنئے حضور فرماتے ہیں :- ہیں:۔جو شخص مجھے فی الواقع مسیح موعود اور مہدی معہود نہیں مانتا وہ میری جماعت میں سے نہیں۔" رکشتی نوح) پھر حضور کتاب مسیح ہندوستان میں کے ملا میں اپنے آپ کو حقیقی