غلبہء حق — Page 125
۲۵ کرائی گئی پھر بعد میں نبی اور رسول کا نام بذریعہ جی دیا گیا اور جب ایک طبقہ نے آپؐ کی نبوت اور رسالت کو قبول کر لیا تو اس کے بعد حضور کی وفات سے چار پانچ سال پہلے آپکا حقیقی اور اصل مقام خاتم النبیین جو آپ کے افضل الانبیاء ہونے پر بھی دال ہے آپ پر ظاہر کیا گیا ، ورنہ اس سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انکسار طبع اور احتیاط کی خاطر یہی فرماتے ہیں: لا تُخَيرُ دُنِي عَلى موسى (صحیح بخاری جلد ۲ ص۲۰۹ مصری) یعنی تجھے موسیٰ پر فوقیت مت دو۔اور اس زمانہ میں جب کبھی آپ کو کسی نے بنی نوع انسان سے افضل کہا تو آپ نے فرمایا: ذاكَ إِبْرَاهِيمُ ( صحیح مسلم) کہ یہ مقام حضرت ابراہیم کا ہے۔لیکن آیت خاتم النبیین کے نزول سے جب آپ پر تمام انبیاء کے بالمقابل اپنی تمام نشان میں جامع کمالات انبیاء ہونے کا واضح انکشان ہو گیا تو آپ نے فرما دیا : لو كَانَ مُوسَى حَيّاً لمَا وَسِعَهُ إِلَّا انتباعی (صحیح بخاری ) اگر موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو انھیں میری پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔نیز فرمایا : فضلَتْ عَلَى الأَنْبِيَاء بیست و صحیح مسلم باب الفضائل) کہ میں چھ باتوں میں تمام انبیاء پر فضیلت دیا گیا ہوں۔ان میں سے ایک وجہ فضیلت اس جگہ اپنا خاتم النبیین ہونا بیان فرمائی ہے۔حالانکہ باقی پانچ وجوہ فضائل کا جو اس حدیث میں بیان ہوئی ہیں آپ کو پہلے علم دیا جا چکا تھا بالخصوص اس بات کا کہ آپ تمام دنیا کی طرف رسول ہیں۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اس تدریجی انکشاف کو بھی کوئی صیح الفل آپ کی تحقیر کا موجب قرار دے سکتا ہے اور نعوذ باللہ آپ کو کم علم