غلبہء حق — Page 92
۹۲ بے شک ان عبارتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آغاز دعوئی سے لیکر ایک وقت تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کے الہامات میں اپنے متعلق بنی اور رسول کے الفاظ کی یہ تاویل فرماتے رہے کہ آپ ایک محدث ہیں اور جزوی نبوت یا نا قصہ نبوت رکھنے کی وجہ سے مجازی طور پر آپ کو نبی کا نام دیا گیا ہے لیکن حضور کی بعد کی تحریرات سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ بعد میں آپ پر ایک ایسا زمانہ آیا جس میں الہامات متواترہ کی روشنی میں آپ نے اپنے آپ کو صریح طور پر نبی کا خطاب پانے والا قرار دیا ہے اور پھر اس زمانہ میں لفظ نبی کی تادیل کبھی محدث یا جزوی یا ناقص نبی نہیں کی۔ہاں یہ درست ہے کہ آپ نے اس زمانہ میں بھی نہ اپنے آپ کو جدید شریعیت لانے والا بنی قرار دیا ہے اور نہ مستقل نبی ، بلکہ ہمیشہ ظلی نبی یا ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اتنی ہی قرار دیا ہے۔کیونکہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی بھی تھے۔تعریف نبوت میں ترمیم و تبدیلی حضور کے عقیدہ میں اس تبدیلی یعنی نبی اور رسول کی تاویل محدث یا جزوی بنی یا ناقص نبی کے ترک کرنے کا موجب یہ بات ہے کہ شاہ سے پہلے آپ کے نزدیک نبوت کے متعلق اسلام کی اصطلاح یہ تھی کہ :- }) چونکہ اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ منی تو نے ہیں کہ وہ کامل شریعیت لاتے ہیں یا بعض احکام شریعت ساقی کو منسوخ کرتے ہیں یا نبی سابق کی اُمت نہیں کہلاتے اور براه راست بغیر استفادہ کسی نبی کے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے ہشیار رہنا چاہیئے کہ اس جگہ بھی