غلبہء حق — Page 72
۷۲ امام ابن حجر محدث علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی تشریح میں فتح الباری صحیح بخاری میں لکھا ہے :- المراد هنا النَّظُرُ إِلَى الْأَكْمل بالنسبة إلى الشرايَةِ الْمُحَمَّدَيَّةٍ مَعَ مَا مَضَى مِنْ الشرائع الكاملة۔رفتح الباری جلد ٥٦ ) یعنی مراد اس تکمیل عمارت سے یہ ہے کہ شریعت محمدیہ پہلے گزری ہوئی کامل شریعتوں کے مقابلہ میں اکمل سمجھی جائے۔علامہ ابن حجر کی اس تشریح کے مطابق اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری اینٹ صرف شریعیت لانے والے نبیوں میں سے شریعت کی تکمیل کرنے کے لحاظ سے آخر ی شارع نبی قرار دینے کے لیے کہا گیا ہے۔فاروقی صاحب انقطاع نبوت کے متعلق یہ تین حدیث پیش کرنے کے بعد اپنی کتاب کے صدا و ۱۳ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کے متعلق ہماری طرف سے پیش کی جانے والی دو حدیثوں کا صرف ترجمہ درج کرتے ہیں اور ہمارے استدلال کو رد کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔مسیح موعود کی نبوت ( فاروقی صاحب مسیح موعود کی نبوت کے متعلق ہماری کے متعلق پہلی حدیث طرف سے پیش کی جانے والی پہلی حدیث کا ترجمہ یہ لکھتے ہیں :- ہیں:۔نبی علاتی بھائی ہوتے ہیں ان کی مائیں مختلف ہوتی ہیں اور ان کا دین ایک ہے اور میں سب سے زیادہ قریب ہوں عیسی بن مریم سے میرے اور اس کے درمیانا