غلبہء حق — Page 286
۲۸۶ انکوائری کمیشن کے سامنے دئے گئے بیان کو درج کرنے کا مطلب <mark>سوا</mark>ئے اس کے کیا ہے کہ وہ ہمارے خلاف اپنا پرانا پروپیگنڈا جاری رکھیں جس سے اب تک انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا ، بلکہ آپس میں جھگڑ کر فریقین کی بہت سی طاقت زائل ہی ہوئی ہے۔حالانکہ یہی طاقت تبلیغ اسلام پر صرف ہونا چاہیے تھی مگر لاہوری فریق اب تک یہ پر دیگنڈا چھوڑنے کو تیار نہیں، اس لیے ہمیں بھی ان کے مقابلہ میں جواب دینا پڑتا ہے۔ورنہ حقیقت یہ ہے ۵۰ سالہ بحث میں فریقین کے انتقلانی مسائل پر اتنا کچھ لکھا جاچکا ہے کہ پڑھنے والا اس سے آسانی سے صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے۔مگر جو لوگ ہماری مخالفت کو ہی اپنی کامیابی کا راز سمجھتے ہوں گو وہ ہر طرح سے ناکام ہی رہے ہوایا وہ بھلا مخالفانہ پر وپا گنڈے سے کیسے باز آ سکتے ہیں۔اللہ ہی ہے بتو انھیں ہدایت دے۔انکوائری کمیشن کے سامنے بھی حضرت خلیفہ آسیح الثانی نے یہی بیان دیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب بنی ہیں اور آپ کا انکار کفر ہے اور یہ وضاحت بھی فرما دی ہے کہ یہ کفر تعمیر وں کا نہیں جو کلمہ لا الہ الا اللہ <mark>محمد</mark> رسول اللہ کے انکار سے پیدا ہوتا ہے۔چنانچہ عدالت میں آپ پر <mark>سوا</mark>ل ہوا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ر حضرت مرزا صاحب کو ناقل <mark><mark>نبی</mark></mark> کہا ہے ؟ جواب : جی ہاں! <mark>سوا</mark>ل : مرزا صاحب نے پہلی مرتبہ کب کہا کہ وہ <mark><mark>نبی</mark></mark> ہیں ؟ جواب : جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے 19 امر میں <mark><mark>نبی</mark></mark> ہونے کا <mark>دعوی</mark> کیا۔یہ جواب درج کرکے فاروقی صاحب لکھتے ہیں۔