غلبہء حق

by Other Authors

Page 285 of 304

غلبہء حق — Page 285

۲۸۵ اس فتنہ کے پیدا ہونے کا اندیشہ تھا۔کہ کچھ ترت بعد بعض لوگ اسی نبوت مستقلہ کا مفہوم نہ نکال لیں۔سو اگر پیغام صلح اور اس کے ہمنوا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کا انکار کر کے آپ کو بار بار غیر نبی قرار دیتے اور نبوت کی بحث کو ۵۰ سال تک جاری نہ رکھتے تو ۵۲ ۱۹۵۳ ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف یر وہ اینی میشن شروع نہ ہوتی اور فسادات ہوتے جن کے بعد لاہور میں مارشل لا لگایا گیا تھا۔پس اس ابتداء کے پیدا ہونے کا موجب زیادہ تر لا ہوری فریق کا وہ پرو سیگنڈا ہے جو انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رض کے خلاف جاری کر رکھا تھا۔کہ یہ حضرت مرزا صاحب کو نبی اور اُن کے منکرین کو مانتے ہیں۔یہ منکرین خلافت احمدیہ تواب بھی یہ پروپیگنڈا چھوڑنے کو تیار نہیں چنانچہ اس بارہ میں حال ہی میں ان کے تازہ ٹریکٹ شائع ہو رہے ہیں اور فاروقی صاحب کی کتاب بھی اسی کا ایک شاخسانہ ہے جو منکرین خلافت احمدیہ نے ہماری جماعت کے خلاف کھڑا کر رکھا ہے۔فاروقی صاحب کا یہ لکھنا صریح غلط بیانی ہے کہ یہ مصلحت بالآخر حقیقت بن گئی۔کیونکہ جماعت احمدیہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہ کبھی منتقل نبی قرار دیا تھا اور نہ اب قرار دیتی ہے بلکہ ہمیشہ امتی نبی ہی مانا ہے۔لیکن اس بات کا کیا علاج ہے کہ مخالف علماء نے اس اصل حقیقت کو دنیا سے چھپا کر ایجی ٹیشن کی تھی۔انکوائری کمیشن میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا بیان میں نہیں سمجھ سکا کہ فاروقی صاحب کا حضرت خلیفہ المسیح الثانی رنو کے