غلبہء حق — Page 272
۲۷۲ گراہی اور ان کے کسی خلیفہ کے مار کا ذکر۔چونکہ جماعت کے لیے خلافت کا طریق انتخاب مقرر کر دینے پر جماعت احمدیہ میں آئندہ فتنہ کا دروازہ بند ہو جاتا تھا۔اس لیے فاروقی صاحب نے پوپ کے طریق انتخاب کا ذکر تو اعتراض کی خاطر کر دیا ہے مگر فقہائے اسلام کے بیان کرده اسلامی طریق انتخاب کا ذکر چھوڑ دیا ہے اور لکھا ہے :- اس کے مطابق میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان حکم دیتے ہیں ! آئندہ یہ نہ رکھا جائے کہ ملتان اور کراچی اور حیدرآباد اور کوٹہ اور پ در سب جگہ کے نمائند ہے جو پانچ سو کی تعداد سے زیادہ ہوتے ہیں وہ آئیں تو انتخاب ہو بلکہ صرف ناظروں اور وکیلوں اور مقررہ اشخاص دیعنی ملازم عملہ) کے مشورہ کے ساتھ اگر وہ حاضر ہوں خلیفہ کا انتخاب ہو گا جس کے بعد جماعت میں اعلان کر دیا جائے گا کہ جماعت اس شخص کی بعیت کرے گی " رفتن حق مشت) یہ عبارت انہوں نے قوسین کے اندر خلافت حقہ اسلامیہ کی تقریر یت کے حوالہ سے لکھی ہے۔مگر ان الفاظ میں فاروقی صاحب نے حسب عادت سراسر تحریف سے کام لیا ہے۔ورنہ تقریر کے اصل الفاظ یہ ہیں:۔پس اسلامی طریق پر جو کہ میں آگے بیان کرونگا آئندہ خلافت کے لیے میں یہ قاعدہ منسوخ کرتا ہوں کہ شوری انتخاب کرے بلکہ میں یہ قاعدہ مقرر کرتا ہوں کہ آئندہ جب کبھی خلافت کے انتخاب کا وقت آتے