غلبہء حق — Page 266
۲۶۶ وَ الْحَقُّ محبت رکھ اور جو حضرت علی رضہ کا دشمن ہے تو اس کا دشمن ہو جا۔اور آپنے ستر الخلافہ میں صاف لفظوں میں یہ بھی لکھا ہے :- اَنَّ الْحَقِّ كَانَ مَعَ الْمُرْتَضى وَمَنْ قَاتَلَهُ فِي وَقْتِهِ فَبَغَى وَطَغَى لَكِيَّ خلافته مَا كَانَ مِصْدَاقَ الاَ مَنِ الْمُبَشِّ بهِ مِنَ الرَّحْمَنِ بَلْ أَدْذِى الْمُرُ تَضَى مِنَ الأقتران الخر رسة الخلافة منت ) اتی ارابه ترجمہ : بچھی بات یہ ہے کہ حق علی المرتضیٰ کے ساتھ تھا اور جس شخص نے آپ کے وقت میں آپ سے جنگ کی ہے اس نے بغاوت اور سرکشی کی ہے۔لیکن ان کی خلافت خدا کی طرف سے بشارت دیئے گئے امن کی مصداق نہ تھی۔بلکہ مرتضیٰ اپنے ہم عصروں کے ہاتھوں ایذا دیئے گئے۔پس ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کا اصل مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معا بعد آیت استخلاف کے اکمل مصداق حضرت ابو بکر صدیق رنہ تھے ، اور اول مصداق بھی دہی تھے۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں کہ : آیات استخلاف میں خدا تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور عورتوں سے وعدہ کیا ہے کہ ضرور ان میں سے بعض چنین خدا تعالیٰ کے فضل درحم سے خلیفہ بنائے جائیں گے اور خدا ان کے خون کو امن سے بدل دیگا۔فَاذَا امْرُ لا نجد مصداقه عَلى وَجْهِ أَنَّمَ وَ اكمل الأخَلَافَةَ الصديق - ( الخلافة مث) یعنی یہ وہ امر ہے جس کا مصداق اتم اور اکمل طور پر ہم حضرت صدیق