غلبہء حق

by Other Authors

Page 255 of 304

غلبہء حق — Page 255

۲۵۵ میں ہیں۔اور انجمن کی جانشینی کو ان کی خلافت پر فوقیت دیتے ہیں۔تو حضرت میر محمد اسحق صاحب رضی اللہ عنہ نے بعض سوالات لکھ کر حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کئے۔اور ان کے سلسلے میں آپ سے مسئلہ خلافت پر روشنی ڈالنے کی درخواست کی حضرت خلیفہ اسح رضہ نے یہ سوالات باہر کی جماعتوں میں بھیجوا دیئے۔جب جماعتوں کی طرف سے ان کے جوابات آگئے۔تو حضرت خلیفہ المسیح الاول نے ایک تاریخ مقرر کی جس میں بیرونی جماعتوں کے نمائندوں کو بھی بلایا۔تاکہ ان سے مشورہ لیا جائے۔اس موقعہ پر لاہور میں خواجہ کمال الدین صاحب وغیرہ نے اپنے مکان پر ایک جلسہ کیا جس میں جماعت لاہو کو بلا یا گیا۔کہ سلسلہ پر ایک نازک وقت ہے کہ اگر دور اندیشی سے کام نہ لیا گیا۔تو سلسلہ کی تباہی کا خطرہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اصل جانشین انجمن ہی ہے۔اگر یہ بات رہی تو جماعت تباہ ہو جائے گی۔اور سب لوگوں کے اس امر پر دستخط لیے گئے۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فرمان کے مطابق انجمن ہی آپ کی جانشین ہے۔چونکہ لاہور کی جماعت کو یہ نہایا گیا تھا کہ حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھی یہی خیالات ہیں اِس لیے اکثر نے اس پر دستخط کر دیئے۔مگر قریشی محمد حسین نے دستخط نہ کیے اور کہا کہ ہم ایسے محضر نامہ پر دستخط کرنے کے لیے تیار نہیں۔ہم جب ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں اور وہ ہم سے زیادہ عالم اور زیادہ خشیت رکھنے والا ہے تو جو کچھ وہ کینگا ہم دہی کرینگے۔تمھارے خیالات کی ہم تصدیق نہیں کریں گے۔ان کی وجہ سے ایک دوا در دوست بھی دستخط کرنے سے رک گئے جب سب نمائندے قادیان میں جمع ہو گئے تو حضرت خلیفہ اول رضہ تقریر کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا :-