غلبہء حق

by Other Authors

Page 256 of 304

غلبہء حق — Page 256

۲۵۶ " تم نے اپنے عمل سے مجھے اتنا دکھ دیا ہے کہ میں اُس حقه و مسجد میں بھی کھڑا نہیں ہوا ہوں جو تم لوگوں کا بنایا ہوا ہے بلکہ میں اپنے پیر کی مسجد میں کھڑا ہوا ہوں۔دلوگوں نے جب حضرت خلیفہ اول رض کے یہ خیالات سنے تو گو جماعت کے بہت سے لوگ خواجہ صاحب وغیرہ کے ہم خیال ہو کر آئے تھے مگر اُن پر اُن کی غلطی واضح ہو گئی اور انہوں نے رونا شروع کر دیا۔اور بعض تو زمین پر تڑپنے لگے۔اس وقت مسجد ماتم کدہ معلوم ہوتی تھی۔پھر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا )۔۔۔۔کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام صرف نماز پڑھا دنیا اور یا پھر بیعت لے لینا ہے۔یہ کام تو ایک ملاں بھی کر سکتا ہے۔اس کے لیے کسی خلیفہ کی ضرورت نہیں اور میں اس قسم کی بیعت پر تھو کتنا بھی نہیں۔بیعت 3 ہے جس میں کامل اطاعت کی جائے اور خلیفہ کے کسی ایک حکم سے بھی الخراف نہ کیا جائے " آپ کی اس تقریر کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں کے دل صاف ہو گئے اور ان پر واضح ہو گیا کہ خلیفہ کی اہمیت کیا ہے۔تقریر کے بعد آپ نے خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی صاحب کو کہا کہ وہ دوبارہ بیعت کریں۔اسی طرح آپ نے فرمایا کہ میں اُن لوگوں کے طریق کو بھی پسند نہیں کرتا جنہوں نے خلافت کے قیام کی تائید میں جلسہ کیا ہے اور فرمایا جب ہم نے لوگوں کو جمع کیا تھا تو ان کا کوئی حق نہ تھا کہ وہ الگ