غلبہء حق — Page 253
۲۵۳ سچی بات کرنے سے بھی روک دیا۔مزید فرماتے ہیں :۔(پیغام صلح ۲۷ را پریل ۱۹۳۶ء) عیب شماری کی بیماری کو چھوڑ دو۔اس سے خدا کی پناہ مانگو اور ان باتوں سے الگ ہو جاؤ جو جماعت کو کمزور کرنے والی ہیں۔دنیا میں کوئی کام نہیں۔جہاں نقص نہ ہو۔اگر اس بات میں لگے رہو گے تو کام کیا کرو گے" نیز آگے چل کر فرماتے ہیں :- اعتراض کرنے کو مقصد قرار دے لو گے تو اصل کام تو گیا۔پس نکتہ چینی سے بچو اور قوم کے خلاف ہر بات کو رد کردو پھر پیام صلح اور منکرین خلافت کے اکا بر جو قادیان میں گرمی بن جانے اور پر پرستی کا الزام دیا کرتے تھے لیکن جس امر کو یہ لوگ پیر پرستی قرار دیا کرتے تھے مجھے تجربہ کے بعد اسی کی مولوی محمد علی صاحب بر سر مشیر خطبہ جمعہ میں یون تلقین فرماتے ہیں :- رو نظام کی بنیاد ایک ہی بات پر ہے۔کہ اسمعوا واطیعوا سنو اور اطاعت کرد - جب تک به روح نہ پیدا ہو جائے۔جب تک تمام افراد جماعت ایک آواز پر حرکت پر نہ آجائیں جب تک تمام اطاعت کی ایک سطح پر نہ آجائیں