غلبہء حق — Page 237
۲۳۷ پس جماعت احمدیہ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر بیا اجماع خافت پر ہوا ہے اس لیے اسی سنت کے مطابق دوسرے خلیفہ کے تقرر کے وقت یہ سوال اٹھانا ہرگز جائز نہ تھا کہ مسیح موعود کی جانشین صرف صدر انجمن احمدیہ ہے اور وئی شخص واحد اس کے ساتھ بطور خلیفہ جماعت میں برسر اقتدار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ خلافت اولی کا قیام نہ صدر انجمن احمدیہ کی جانشینی کے خلاف سمجھا گیا تھا اور نہ ۲۷ اکتوبری شاہ کی تحریر کے خلاف۔ٹے پس جب صدر انجمن احمدیہ بلکہ ساری جماعت چھ سال تک حضرت مولوی نورالدین صاحب کی خلافت پر جمع رہی تو اب جماعت کو مولوی محمد علی صاحب وغیرہ کا کسی اور راہ پر ڈالنا اور صرف انجمن کو ہی جانشین قرار دینا کسی طرح درست نہ تھا۔صدر انجمن احمد یہ تو مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں بھی آپ کی جانشین تھی۔پھر خلیفہ اول رض کے زمانہ میں اُن کے واسطہ سے آپ کی جانشین رہی اور اس کے بعد خلافت ثانیہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اُن کاموں میں جانشین رہی جو کام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انجمن کے سپرد کر رکھے تھے۔خود صدر انجمن احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر اجتہاد کر چکی تھی کہ آپ کے بعد آپ کا خلیفہ واجب الاطاعت ہونا چاہیئے اور ساری جماعت احمدیہ کا بھی حضرت خلیفہ مسیح الاول رض کی خلافت پر اجتماع ہو گیا۔بلکہ پرانے احمدیوں کے لیے بھی صدر انجمن احمدیہ کے ممبروں نے خلیفہ اس کی بیعت ضروری قرار دی۔اور صدر انجمن احمدیہ کے ممبر خود بھی حضرت خلیفہ اسح الا دل کی بعیت کر کے آپ کے تابع فرمان ہو گئے۔لہذا خلافت ثانیہ کے موقعہ پر پہلی خلافت سے مخلف قسم کی کوئی خلافت یا امارت جماعت میں قائم نہیں ہو سکتی تھی۔