غلبہء حق

by Other Authors

Page 222 of 304

غلبہء حق — Page 222

۲۲۲ کے حاشیہ میں لکھا ہے : به قصبہ قادیان بوجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں دمشق سے ایک مناسبت اور مشابہت رکھتا ہے" (ازالہ اوہام جات ہے پھر یہ الهام درج کرنے کے بعد آگے چل کر لکھتے ہیں :- خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے اور وہ اس بات کا شاہدال ہے کہ اس نے قادیان کو دمشق سے مشابہت دی ہے اور ان لوگوں کی نسبت یہ فرمایا ہے کہ یہ یزیدی الطبع ہیں یعنی اکثر وہ لوگ جو اس جگہ رہتے ہیں وہ اپنی فطرت میں یزیدی لوگوں کی فطرت سے مشاہر ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس جگہ یزیدیوں سے اس زمانے میں قادیان میں رہنے والوں میں سے حیدث فطرت انسان مراد لیے ہیں ہاں اخرج کے ایک لغوی معنے نکلانے گئے کے بھی ہیں اس صورت میں الہام أخرجَ مِنْهُ الہ زیدیوں کے بطور شگوئی یہ معنے بنتے ہیں کہ یہ یزیدی طبع لوگ قادیان سے نکالے جائیں گے۔یزیدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے دشمن تھے اس صورت میں اس پیشگوئی کے مصداق وہی لوگ ہو سکتے ہیں جن کو اہل بہت مسیح موعود سے دشمنی ہو اور اس دشمنی نے انھیں قادیان سے خارج کر دیا ہو۔فاروقی صاب خوب جانتے ہیں کہ اہل بہت مسیح موعود کے دشمن کون ہیں۔" بلائے دمشق" تذکرہ صنے کا الہام اخرج منه الیزیدیوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ہے بلکہ یہ مشق میں پیش آنے والی کسی مصیبت پر دلالت