غلبہء حق

by Other Authors

Page 150 of 304

غلبہء حق — Page 150

۱۵۰ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا انوار خلافت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس پیشگوئی کا اصل مصداق بمعنی مصداق صریح قرار دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صفاتی لحاظ سے اس پیشگوئی کا مظہر اول مانتے ہوئے اس پیشگوئی کا مضمتی مصداق قرار دینا درست امر ہے۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحفہ گولڑویہ میں لکھ دیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی یہ پیش گوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ سے متعلق ہے جو بروزی طور پر مسیح موعود کے رنگ میں ہوئی۔چنانچہ حضور تحفہ گولڑویہ میں تحریر فرماتے ہیں :- بغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعثت اول کا زمانہ ہزار پنجم تھا جو اسم محمد کا منظر تجلی تھا یعنی بعثت اول جلالی نشان ظاہر کرنے کے لیے تھا مگر بعثت دوئم میں کی طرف آیت کریمہ و آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بھر میں اشارہ ہے وہ مظہر محلی اسم احمد ہے جو اسم جمالی ہے جیسا کہ آیت دمکش ابرسُول يَأْتِي من بعدي اسمه احمد اس طرف اشارہ کر رہی ہے۔اور اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ مد می محمود جس کا نام آسمان پر مجازی طور پر احمد ہے جب مبعوث ہو گا تو اس وقت وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو حقیقی طور پر اس نام کا مصداق ہے اس مجازی احمد کے پیرا یہ میں ہو کر اپنی جمالی تجلی فرمائے گا۔۔۔۔۔لہذا جیسا کہ مومن گا۔کے لیے دوسرے احکام الٹی پر ایمان لانا فرض ہے