غلبہء حق — Page 113
الجواب یا در ہے کہ اس بات کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھے ان باتوں میں نہ کوئی خوشی ہے نہ کچھ غرض کہ میں مسیح موعود کہلاؤں یا مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں بہتر ٹھہراؤں۔خدا نے میرے ضمیر کی اپنی اس پاک ھی میں آپ ہی خبر دی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔علی اجود نفسى من ضروب الخطاب، یعنی ان کو کہا ہے کہ میرا تو یہ حال ہے کہ میں کسی خطاب کو اپنے لیے نہیں چاہتا یعنی میرا مقصد اور میری مراد ان خیالات سے ہر ترا اور کوئی خطاب دینا یہ خدا کا فعل ہے۔میرا اس میں دخل نہیں ہے۔رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا گیا اور کلام میں یہ تناقض کیوں پیدا ہو گیا سو اسبات کو توجہ کر کے سمجھے لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمد ہیں میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہو گا مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا سیح میں ہی ہوں۔اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسے رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی۔مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسی آسمانی ہی سے نازل ہونگے اس لیے میں نے خدا کی دھی کو ظا ہر پر حمل کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد دہی رکھا جو عام