غلبہء حق — Page 4
حضرت خلیفہ اسی الاول رضی اللہ عنہ کی وفات پر یہ اشتہار فوراً تقسیم کردیا گیا حالانکہ خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ نے آئندہ ہونے والے خلیفہ کے متعلق جو وصیت لکھی تھی وہ آپؐ نے اپنی وفات سے پہلے مولوی محمد علی صاحب سے تین مرتبہ مجالس میں بلند آواز پڑھوائی تھی اور مولوی صاحب سے پوچھا تھا کہ اس میں کوئی بات رہ تو نہیں گئی جس پر مولوی صاحب نے تسلیم کیا تھا کہ یہ بالکل درست ہے۔مگر افسوس ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کے آنکھیں بند کرنے سے پہلے ہی آپ کی اس وصیت کی مخالفت کا فیصلہ کر لیا۔جماعت نے مولوی محمد علی صاحب کے اس اشتہار کو ٹھکرا دیا ، اور سوائے چند آدمیوں کے جو مولوی محمد علی صاحب کے ہم خیال تھے ، قادیان میں موجود تمام جماعت نے تو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔اور آپ کو خلیفہ اسیح الثانی تسلیم کرلیا۔یہ حق کی پہلی فتح تھی۔مولوی محمد علی قنا احمدیت میں خلافت کو مٹانے میں سخت ناکام رہے۔اس کے بعد مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام گورا ہوا انى معك ومع اهلك کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں۔حضرت مسیح موعود کے جس اہل بیت کو یہ لوگ ناتواں اور بچہ سمجھتے تھے خدا تعالے نے اُسے اُن کے مقابلہ میں بڑا بنا دیا۔ور به امر دوم : لاہوری فریق نے شروع شروع میں اخبار پیام صلح میں لکھا کہ :- ابھی بمشکل قوم کے بیسویں حصہ نے خلیفہ تسلیم کیا ہے۔رپیام صلح و مٹی سارہ عدت کالم سے) اور یہاں تک لکھ دیا کہ افسوس مؤیدین خلافت کی تعداد کہنے کو دوہزار بتائی جاتی ہے لیکن دراصل ایسے مریدین کی تعداد جو موجودہ خلافت کے حالات سے باخبر ہوں،