غلبہء حق

by Other Authors

Page 107 of 304

غلبہء حق — Page 107

1۔6 اسی معروف اصطلاح کی وجہ سے سائل کے دل میں خلجان ہے کہ جب صریح لفظوں میں صحیح مسلم میں مسیح موعود کو نبی اللہ قرار دیا گیا ہے تو پھر صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی یہ بات کیسے درست ہو سکتی ہے کہ مسیح موعود اسی اُمت میں سے ہوگا۔اس سوال سے ظاہر ہے کہ سائل کے نزدیک جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہو وہ حقیقت نبی نہیں ہو سکتا۔حضرت اقدس اس سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تمام بد قسمتی دھوکہ سے پیدا ہوئی ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر را مورفیہ ناقل) پانے والا اور شرف مکالمہ مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔شریعت کا لانا اس کے لیے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ وہ صاحب شریعیت کا مشبع نہ ہو پیس ایک امتی کو ایسا نبی قرار دینے میں کوئی محذور لازم نہیں آتا۔بالخصوص اس حالت میں کہ وہ امتی اپنے اسی نی متبوع سے فیض پانے والا ہو (ضمیمه برا بین احمدیہ حصہ پنجم ۱۳۵) ظاہر ہے حضرت اقدس مکتوب ، ار اگست شاء کے وقت تو نبی کے لیے اگر وہ شریعیت کا ملہ یا احکام جدیدہ نہ لائے۔کم از کم یہ ضروری شرط سمجھتے تھے کہ وہ کسی نبی کا امتی نہیں کہلاتا۔بلکہ سابق نبی سے استفادہ کے بغیر خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے۔گویا اس زمانہ میں اس سائل کی طرح آپ بھی بھی سمجھتے تھے کہ نبی اُمتی نہیں ہوتا حضور کا یہ مکتوب نشہ سے پہلے کا ہے۔لیکن تبدیلی تعریف نبوت کے بعد ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کی مندرجہ بالا عبارت میں حضرت اقدس