غلبہء حق — Page 83
٨٣ پس الا ان یکون نبی کے الفاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مجد امت کے نبی ہونے کا امکان منافی ختم نبوت قرار نہیں دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب نزول المسیح میں اپنے تئیں مجددبھی قرار دیتے ہیں اور یہ بھی تحریر فرماتے ہیں :۔دین مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نام سر در انبیا نے نبی اللہ رکھا ہے-" (نزول المسیح من ) پیس فاروقی صاحب کا احادیث نبویہ میں مسیح موعود کے لیے نبی اللہ ہونے کے الفاظ سے انکار دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان تحریرات سے انحراف ہے جن میں حضور احادیث نبویہ کی بنا پر مسیح موعود کو نبی کہلانے کا ستحق قرار دیتے میں اور نیر سو سال میں کسی مجدد امت کو نبی کا نام پانے کا استحق قرار نہیں دیتے۔جیسا کہ پہلے مذکور ہوا۔فاروقی صاحب نے فتح حق ص پر آیت اهدنا الصراط المستقیم کی تفسیر میں اس کی قبولیت کا ذکر آیت ومن يطع الله و الرسول فاولئك مع الذين العمر الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين (سورة النساء ) من رج شدہ قرار دے کر لکھا ہے کہ : - رو و یہاں یوں نہیں فرمایا کہ وہ نبی صدیق وغیرہ ہو جاتے ہیں بلکہ فرما یا ان کے ساتھ ہو جاتے ہیں یعنی ان کے رنگ میں رنگین ہو جاتے ہیں۔“ پھر دوسری جگہ فرمایا : - والذین امنوا بالله ورسله اولش هم