غلبہء حق

by Other Authors

Page 76 of 304

غلبہء حق — Page 76

کیا ہے۔ہاں حدیث ہذا کے منطوق سے یہ ظاہر ہے کہ مسیح موعود بنی ہونے کی وجہ سے تمام انبیا سے نجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم علاقی بھائی کا سارشتہ رکھتا ہے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ روحانی فرزند ہے۔حدیث ہذا کے الفاظ لم یکن بینی و بینه نبی میں لم يكن بصیغۂ ماضی موعود عیسی کی نبوت کے یقینی تحقیق کے لیے لایا گیا ہے تا یہ ظاہر ہو کہ امت کے مسیح موعود کا بنی ہونا خدا تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے ہی مقدر ہو چکا ہے۔اسی لیے صحیح بخاری کتاب بدء الخلق میں حدیث اس مضمون کی وارد ہے اس میں انہ لیس بینی وبینہ نبی کے الفاظ بطور جملہ اسمیہ آئے ہیں کہ میرے اور بیج موعود کے درمیان کوئی بنی نہیں۔حضرت مولوی نورالدین خلیفہ مسیح الاول صحیح بخاری کی اسی حدیث کے پیش نظر فرماتے ہیں :- " نافل حضرت صاحب دیعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام : خدا کے مرسل ہیں وہ نبی کا لفظ اپنی نسبت نہ بولتے تو بخاری کی حدیث کو نعوذ باللہ غلط قرار دیتے جس میں آنے والے کا نام نبی اللہ رکھا ہے۔پس وہ نبی کا لفظ بولنے پر مجبور ہیں۔راخبار بدر جولائی ۱۹۱۳ء ص (۲) مگر فاروقی صاحب اپنے اس مسلم خلیفہ مسیح سے بھی اختلاف کرتے ہیں اور لکھتے ہیں :- بخاری والی حدیث میں لفظ نبی اللہ کا آنے والے سیج کے متعلق استعمال نہیں ہوا۔" رفتح حق ص ) پھر خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کی نبوت زیر بحث ہے تحریر فرماتے ہیں :۔